جہلم

جہلم میں نان بائیوں نے روٹی اور نان 20 روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیئے

جہلم: انتظامیہ کی گرفت کمزور، نان بائیوں نے روٹی اور نان 20 روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس دفاتر تک محدود، شہری لٹنے پر مجبور، شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق شہر کے نان بائیوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے چیکنگ نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روٹی اور نان کی قیمتیں از خود بڑھا کر صارفین سے وصولی شروع کر دی جس کے باعث غریب سفید پوش طبقہ کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تندور مالکان اور نان بائیوں نے بھی سبسڈی والے آٹے کی روٹیاں فروخت کرنی شروع کر رکھی ہیں ۔
جہلم میں نان بائیوں نے روٹی اور نان 20 روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیئے
اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی حکومت نے 100 گرام روٹی کے نرخ 10 روپے اور نان 120 گرام کے 15 روپے مقرر کر رکھے ہیں جبکہ نان بائیوں اور تندور مالکان نے روٹی کی فروخت 10 روپے کی بجائے 20 روپے اسی طرح نان کا وزن 120 گرام اور قیمت 20 روپے مقرر کرکے وصولی شروع کر رکھی ہے ۔ نان بائیوں اور تندور مالکان نے قیمت پنجاب ایپ کے نرخوں کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔

شہریوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کمروں میں بیٹھ کر فرضی کارروائیاں کرکے اربابِ اختیار کوسب اچھا ہے کا راگ آلاپ رہے ہیں۔ گراں فروشوں نے اپنی الگ ریاست قائم کررکھی ہے۔ انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی کارکردگی کو ناقص بنانے میں ضلعی انتظامیہ کا بہت بڑا کردار ہے، غریب سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے ۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی کمیٹی تشکیل دیکر ضلع جہلم کے بازاروں کا وزٹ کروایا جائے تا کہ ارباب اختیار جان سکیں کہ گراں فروش انتظامیہ کے احکامات پر کیوں عملدرآمد نہیں کر رہے اور گراں فروشوں کی سرپرستی کرنے والے افسران کو ضلع بدر کیا جائے تا کہ غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد حکومتی ریلیف سے مستفید ہو سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button