جہلم شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم، ٹریفک پولیس سڑکوں سے غائب

جہلم شہرکی سڑکوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ، ٹریفک پولیس سڑکوں سے غائب ،اندرون شہر میں بدترین ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا۔

شاندار چوک سے جی ٹی ایس چوک ، شاندار چوک تا یادگار میجر اکرم شہید، شاندار چوک تا چوک گنبد والی مسجد ، شاندار چوک تا تحصیل روڈ تک گاڑیوں کی طویل قطاریں ،شہری شدید اذیت اور پریشانی میں مبتلا ، منٹوں کاسفر طویل دورانئے تک طے ہونے لگا ،دوسری جانب ٹریفک جام کا اصل سبب سڑکوں کے اطراف میں قائم تجاوزات اور گاڑیوں کی پارکنگ کا ہونا ہے جبکہ رہی سہی کسر چنگ چی رکشوں ، ریڑھی بانوں دکانداروں کی موٹر سائیکلوں نے نکال دی ہے۔

اندرون شہر میں بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کے باوجود شہر کی سڑکوں پربھاری گاڑیاں دوڑتی نظرآتی ہیں ۔ شاندار چوک میں اکا دکا ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکاردھوپ تاپتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پورے شہر کو ٹریفک پولیس نے اللہ کے سپرد کررکھا ہے ۔ جس کیوجہ سے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا جام رہنا روزانہ کامعمول بن چکا ہے ۔

شہریوںنے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے قبل ڈی ایس پی ٹریفک دن اور شام کے اوقات میں سڑکوں پر ٹریفک پولیس کے عملے اور گاڑیوں کی چیکنگ کرتے دکھائی دیتے تھے۔پچھلے کئی ماہ سے ڈی ایس پی ٹریفک نے شہر کی سڑکوں کا وزٹ کرنا ترک کردیاہے۔

اس کی وجہ سے شہر کے عین وسط میں واقع شاندار چوک کے چاروں اطراف ریڑھی بانوں اور چنگ چی رکشہ ڈرائیوروں نے رکشے کھڑے کرکے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے گزرنے پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے جس کی وجہ سے چھوٹی گاڑیاں ،موٹر سائیکل سواروں ، رکشہ ڈرائیورز اور ریڑھی بانوں کے درمیاں گالی گلوچ لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔

ٹریفک پولیس نے جی ٹی ایس چوک ، شاندار چوک ، چوک گنبد والی مسجد، کچہری چوک ، روہتاس روڈ چوک، جادہ چوک اور سول ہسپتال کے باہر ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکار تعینات کرنے کی بجائے شہریوں کے مسائل سے مکمل لا تعلقی اختیار کرلی ہے۔

شہریوں نے آئی جی پنجاب، ایڈیشنل ڈی آئی جی ٹریفک پولیس اور صوبائی محتسب پنجاب سے شہر میں ٹریفک کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل سے چھٹکارہ دلوانے اور مذکورہ مقامات پر ٹریفک پولیس تعینات کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button