کالم و مضامین

نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان

ارشاد باری ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد :۱۱) کہ اﷲ کریم کسی قوم کے حالات کو تبدیل نہیں فرماتے، درست نہیں فرماتے جب تک وہ قوم اپنے آپ کو، جب تک حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ اس کے افراد اپنے آپ کو، اپنے کردار کو ، اپنے طرز عمل کو درست نہیں کرلیتے ،کسی نے بہت اچھا شعر کہا ہے اور ترجمے کا حق ادا کردیا ہے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

ہم جس دور میں گزر رہے ہیں اس ملک کوبنے ہوئے تقریبا ً پون صدی ہونے کو آئی ہے اس پون صدی میں ہمارا آنے والا ہردن سیاسی طور پر،معاشی اوردینی طور پربھی پہلے سے خراب ہوتا جارہا ہے کردار کے اعتبار سے زندگی کے کسی شعبے میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی ،بنیادی حقیقت یہ ہے کہ د نیا کا خوشحال ترین خطہ پاکستان کے نام پر اﷲ نے ہمیں عطاکیا ، باقی برصغیر بھی اس خطے کی وجہ سے مشہور تھا سب سے زیادہ انسانی زندگی کے وسائل اس ایک خطے میں موجود ہیں بلکہ پاکستان کے گردا گرد اگر دیوار بنا دی جائے تاکہ بیرونی دنیا سے اس کا کوئی رابطہ نہ ہو تواس ملک میں زندگی کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے یہ واحد ملک ہے جو survive کرسکتا ہے۔

دنیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں ہے جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں موجود ہوں دنیا میں جتنی اسلامی ریاستیں آج بھی دنیا میں موجود ہیں یہ سارے وہ علاقے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے فتح کیے تھے یہ اﷲ کی ایسی حکمت ہے کہ جو علاقے صحابہ کرام ؓ کے عہد میں اور خلافت راشدہ کے عہد میں حلقہ اقدار میں آئے اور اسلامی ریاست کا حصہ بنے وہ سب ابھی تک اسلامی ریاستوں کے طورپر موجود ہیں یہ صحابہ کرامؓ کی اور خلافت راشدہ کی برکات کا ایک پہلو ہے کہ وہ زمین اﷲ کے نام سے خالی نہیں ہوئی اس میں آج کے دور کے مسلمانوں کا یاچودہ صدیاں میں گزرنے والے لوگوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

برصغیر میں تعلیمی نظام بہت اعلیٰ تھا چپے چپے پر یونیورسٹیاں تھیں شاہ و گدا سب ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے ، فقیر کا بچہ جہاں ہوتا، بادشاہ کے بیٹے بھی وہیں آکرپڑھتے تھے۔ زندگی کے ہر شعبے کے لوگ ،ماہرین تعلیم ،ڈاکٹر،سائنٹسٹ ، مورخ، سپاہی ، جرنیل،حکمران ،سیاست دان انہی یونیورسٹیوں سے نکل کر آتے تھے جنہیں جامعات کہا جاتا تھا اب تو ہم جہاں جمعہ کی نماز پڑھیں وہاںبورڈ لگا دیتے ہیں۔

جامع مسجد کاجامعہ کا مطلب ہے یونیورسٹی انگریزی لفظ یونیورسٹی کا عربی ترجمہ جامعہ ہے یہ جامعات خود کفیل تھیںمسلمان حکمرانوں نے انہیں بڑی بڑی جاگیریں دیں ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ہوتے تھے اس کی آمدن سے بچوں کی تعلیم ،کتابیں ،کھانا پینا ،اساتذہ کی رہائش ، تنخواہ،اکیڈمی کی تعمیر،تمام اخراجات پورے ہوتے اور آپ حیران ہوںگے کہ انگریز نے جب اس ملک پر قبضہ کیا تو جو رپورٹ لارڈ کلائیو نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں دی تھی اس کی ایک تصدیق شدہ کاپی ابھی تک میرے پاس موجود ہے اس میں وہ کہتا ہے حالانکہ مسلمان حکمرانوں کو اور ان کی حکومت کو کمزور ہوتے ہوتے گئے ہوئے بھی برسوں بیت چکے پھر اس کے بعد پنجاب پر سکھوں کا اقتدار آگیا۔

دہلی پر مرہٹے چھا گئے اور یوں جگہ جگہ خانہ جنگی ہوئی اوراپنی اپنی حکومتیں بن گئیں اور وار لارڈزبن گئے اس کے باوجود جب انگریز نے قبضہ کیا اور لارڈ کلائیو نے جو رپورٹ دی وہ کہتا ہے کہ میں نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پورے ہندوستان کا سفر کیا ہے مجھے کوئی گداگر نظر نہیں آیا اور میں نے کوئی چور نہیں دیکھا یعنی معاشی حالت اس ساری تباہی کے باوجود ایسی تھی کہ یہ اس کے الفاظ میں i found no thief and no beggar کوئی چور اور کوئی گداگر میں نے نہیں دیکھا آگے وہ لکھتا ہے کہ اس پر مسلمانوں کی حکومت تھی اور مسلمانوں کا اس وقت لٹریسی ریٹ چراسی پرسنٹ تھا یعنی مسلمانوں میں چوراسی پرسنٹ وہ لوگ تھے جو فاضل تھے ،جوپڑھے لکھے تھے اب تو ہم جو لٹریسی ریٹ دیتے ہیںاس میں جو نام لکھ سکتا ہے اسے ہم پڑھا لکھا بنا دیتے ہیں۔

اس زمانے میں جو پوری طرح سے پڑھے لکھے well qualifed لوگ تھے ماسٹرر تھے انہیں پڑھا لکھا شمارکیاجاتا تھا اور مسلمانوں میں وہ چوراسی فیصد تھے تو اس نے تجویز دی کہ ہم اس قوم پر حکومت نہیں کر سکتے اگر ہمیں حکومت کرنا ہے تو اس کی we have to break their backbone یہ اس کے الفاظ ہیں کہ ہمیں ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑنی ہو گی اور وہ ان کا نظام تعلیم ہے اس رپورٹ میں وہ لکھتا ہے کہ ہمیں ایسا نظام تعلیم متعارف کرانا ہو گا جس میں مسلمانوں کی تہذیب کو گھٹیا ظاہر کیا جائے اور ہماری تہذیب کو اعلیٰ ظاہر کیا جائے اور لوگ ہماری تہذیب کو اپنانا شروع کر دیں پھر ہم مسلمانوں کو غلام بنا سکتے ہیں۔

اس کا وہ نسخہ اتنا کارگر ثابت ہوا کہ پون صدی ہوگئی ہمیں آزاد ہوئے آج بھی ہمارا صدر مملکت خطاب فرماتا ہے تو انگریزی میں وزیراعظم بولتا ہے تو انگریزی میں وزیر بات کرتے ہیں تو انگریزی میں لباس اوپر سے نیچے تک صدر سے لے کر ایک عام تحصیلدار، نا ئب تحصیلدار تک انگریز کا ہے تہذیب وہی ہے اس غلامی ، محکومی اور ذلت سے ہم نکل ہی نہیں سکے پاکستان بنا ،کہا گیا ہم آزاد ہو گئے لیکن یہ آزادی وہی ہے جو اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے نجومی کے طوطے کو ملی ہوتی ہے کہ وہ پنجرے سے نکلتا ہے ایک کارڈ اٹھاتا ہے پھر خود بخود پنجرے میں چلا جاتا ہے اسے کوئی بند نہیں کرتا ،تالا نہیں لگاتا آزاد ہی ہوتا ہے ہم بھی اس طوطے کی طرح آزاد ہیں کہ عدالتی ،تعلیمی اورسیاسی نظام وہی ہے بلکہ اس سے بے بدتر ہوگیا ہے۔

یہ نظام کیوں نہیں بدلا جاتا؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انگریز مالک تھا اور برصغیر کے سارے لوگ اس کے غلام تھے اس نے جو نظام بنایا تھا اس کا نام ہی salavary system ہے یعنی غلاموں کے لیے ایک نظام ،اب جو لوگ انگریز کی جگہ برسر اقتدار آئے انہیں اس میں بڑا مزا آیا کہ ہم تو مالک بن گئے اور اتنی مخلوق ہماری غلام ہے ہم جو چاہیں کریں وہ بھلا اسے کیوں بدلیں گے ؟ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو طعنے دیتے رہتے ہیں اس کی جگہ دوسرا آجاتا ہے اس نظام کو دیکھ لیں جو کچھ ہو رہا ہے مہنگائی ہے لوگ مر رہے ہیں خودکشیاں کررہے ہیں اولادیں بیچ رہے ہیں مساجد اورہر فرقے کی عبادت گاہوں میں دھماکے ہورہے ہیں قتل عام ہورہا ہے اس کے باوجود جب بھی بات ہوتی ہے کہتے ہیں اس نظام کو نہیں بدلنے دیں گے اس کے لئے ہم جان لگا دیں گے۔

اس نظام میں ہے کیا؟کہ جو اقتدار میں آجائے وہ مالک بن جاتا ہے اور باقی سارے اس کے غلام بن جاتے ہیں اس لیے اس نظام کو نہیں بدلنا چاہیے آپ ووٹ کی طاقت کی بات کرتے ہیں ملکی آبادی جیسا کہ کہا جاتا ہے اگر اٹھارہ کروڑ ہے تو اٹھارہ کروڑ میں ایسے لوگ جو بالغ اور ووٹ دینے کے قابل ہوں گے وہ زیادہ سے زیادہ دس کروڑ ہوں گے پھر دس کروڑ میں ہماراجو Turn over آتا ہے وہ سرکاری طورپربتایاجاتا ہے کہ چھبیس فیصد لوگوں نے ووٹ دئیے تیس فیصد نے دئیے ،پچاس فیصد کر لیں تو دس کروڑ کا پچاس فیصد پانچ کروڑ بنے گا تو پانچ کروڑ لوگ اگر ووٹ پول کرتے ہیں جبکہ جو سپریم کورٹ میں ثابت ہوا وہ تو یہ تھا کہ چھ کروڑ کچھ لاکھ جعلی ووٹ تھے تو جس ملک میں ووٹر دو کروڑ تین کروڑووٹ دینے آئیں اور چھ کروڑ وہاں جعلی ہوں تو کون سی جمہوریت ہو گی اور کیسا انتخاب ہو گا ؟

الیکشن سے پہلے یہ طے ہو جاتا ہے کہ فلاں پارٹی کو اتنی سیٹیں ملیں گی ،فلاں کو اتنی ملیں گی اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہاں طے ہوتا ہو کہیں سے طے ہو کے آجاتا ہے اورآج کل بین الاقوامی پالیسی جو پاکستان کے ساتھ ہے وہ یہی چل رہی ہے کہ یہاں نئی نئی جماعتیں پیدا کرو ،نئے نئے لوگ کھڑے کرو اور ان کو اور تقسیم در تقسیم کرو کہ ا سمبلی میں ہر پارٹی کی دو دو تین تین چار چار پانچ پانچ نشستیں رہ جائیں اور ان کی اپنی کوئی فیصلہ کن حیثیت نہ رہے بہت سے لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ ایک نئی پارٹی آ گئی لیکن یہ کوئی خوشی کی بات نہیں میرا خیال ہے۔

اگر مجھے صحیح یاد ہے ہمارے الیکش کمیشن کے پاس رجسٹرڈ پولیٹیکل پارٹیز ایک سو ستائیس ہیں تو یہ ہم پر ایک پالیسی مسلط ہے کہ زیادہ سے زیادہ ان کی پارٹیاں بنیں زیادہ سے زیادہ یہ تقسیم در تقسیم ہوں تا کہ فیصلہ کن حیثیت کسی پارٹی کی بھی نہ ہو اور فیصلے کہیں اور سے ہو کر ان پر مسلط ہوتے رہیں یہ سارے وہ حقائق ہیں جو ہمارے سامنے ہیں ہربندہ چاہتا ہے کہ ان حالات کا مقابلہ کیا جائے لیکن کسی کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ کیسے کیا جائے؟۔

میں نے یورپ، امریکہ مغربی ممالک وغیرہ میں پھر کے دیکھا ہے میرے سفر نامے میں بھی آپ کویہ چیز ملے گی کہ والدین چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے نیک ہوں اچھے مسلمان ہوں ، شریف آدمی بنیں لیکن خود شرابیں پیتے ہیں کلبوں میں جاتے ہیں عیاشیاں کرتے ہیں اب یہ کیسے ممکن ہے کہ والدین تو موج میلہ کریں اور بچے صوفی ،نیک اور پارسا بن جائیں یہ کیسے ممکن ہے؟ کم و بیش ہماراعالم بھی یہی ہے ہم کہتے ہیں کہ سارا ملک سدھر جائے لیکن ہم خود سدھرنا نہیں چاہتے دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اپنی نہیں۔

اﷲکریم نے جو قانون بتایا ہے وہ یہ ہے کہ اﷲ کریم تب تمہار ے حالات بدلیں گے جب تم اپنے آپ کو بدلو گے حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ تمہارے اپنے اندر جو کچھ ہے تمہارے اپنے بس میں جو کچھ ہے جو کچھ تم کر سکتے ہو جب اس میں تم بہتری لاؤ گے اﷲ تمہارے حالات میں بہتری لے آئیں گے اور یہ بڑا عجیب طوفان آیا ہوا ہے ہمارے ملک میں کہ پوری قوم کی اصلاح کر دو ہر جماعت یہ دعویٰ لیے کھڑی ہے کہ ہم یہ کر دیں گے ہم وہ کر دیں گے تومیرے بھائی یہاں جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے ہمیں یہ امید رکھنی کہ اوپر سے کوئی تبدیلی آجائے ہاں اﷲ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ کوئی نیک بندہ بھیج دے وہ تبدیلی لا دے تو یہ ایک معجزہ ہو گا یہ routine work نہیں ہوگا یعنی یہ معمول کا کام نہیں ہو گا۔

اﷲ کی طرف سے ایک معجزہ ہوگا وہ قادر ہے وہ کرسکتا ہے اس قوم کا عالم تو یہی ہے کہ کوئی ایک بندہ نیک آ جائے تو سارے اس قالب میں ڈھل جائیں گے اور اﷲ کرے ایسا ہو یہ آسان طریقہ ہے لیکن اس امید پر ہم بری نہیں ہو سکتے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہے اصلاحِ احوال کے جتنے طریقے ہیں قرآن کریم پڑھو،حدیث شریف پڑھو ،تاریخ اسلا م کا مطالعہ کرو اپنے کردار کو ان ہستیو ں کے کردار کے مقابلے میں جانچو ، اتباع رسالت اختیار کرو اور صحابہ کرام ؓ کا اتباع اختیار کرو نیک لوگوں کی پیروی اختیار کرویہ سارے طریقے اصلاح احوال کے ہیں لیکن ان سب کی جان ذکر الہٰی ہے فرد کے اندراس کے دل میں جب نور الہٰی آتا ہے تو اس کی روشنی انسان کے اعضاء وجوارح میں بھی جاتی ہے دماغ میں بھی جاتی ہے زبان میں بھی جاتی ہے اور وہ مثبت تبدیلی لاتی ہے۔

آپ ایک پودا لگاتے ہیں یا فصل لگاتے ہیں تو اسے زمین پر چھوڑ دیتے ہیں جیسی اس زمین میں زرخیزی ہے اتنا وہ ہوجاتا ہے لیکن اگر آپ اسے کھاد بھی دیتے ہیں تو بہت اچھا ہوجاتا ہے پھر اگر پانی بھی دیتے ہیں تو او ربھی اچھا ہوجاتا ہے توانسانی کردارماحول پر چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسا ویرانے میں کوئی پودا لگا دیا یا کوئی بیج ڈال دیا ذکر الہٰی اُسے پانی اور کھاد دینے کے مترادف ہے کہ وہ نیکی پھلتی ،پھولتی اور بار آور ہوتی ہے تو ا س تبدیلی کا سب سے مؤثر ذریعہ ذکر الہٰی ، مشائخ کی توجہ ،انوارات الہٰی، برکات رسالت ﷺ کا سینے میں ہونا ہے ہمیں دوسروں کا معائنہ کرنے کی بجائے کہ وہ کتنا بدلا سب سے پہلے اپنا،اپنی ذات کا جائزہ لینا چاہئے اپنی ذات کا اندازہ کرنا چاہئے کہ مجھ میں کتنی مثبت تبدیلی آئی۔

ایک بات دوسری بات یہ ہے اس کو اپنے آپ تک محدود نہ رکھیں جہا ں تک آپ کا اثر ہے جہاں تک کوئی آپ کی بات سنتا ہے اس نیکی کو آگے پھیلائیں اس پر سب مسلمانوں کا حق ہے اور آج کے دور میں تو من حیث القوم ہم سارے مریض ہیں اورمریض کا عالم یہ ہوجاتاہے کہ مرض اس کے مونہہ کا ذائقہ بدل دیتاہے اسے آپ دودھ میں شہد ڈال کر بھی دیں تو وہ کہتا ہے کڑوا ہے مجھے کڑوا لگتا ہے دودھ کڑوا نہیں ہوتا اس کا مونہہ کا جو لعاب ہے وہ بدل چکا ہوتاہے آج قوم کو اﷲاﷲ بتائیں تو انہیں کڑوا لگتا ہے انہیں پسند نہیں آتا یہ ایک بیماری کی دلیل ہے لیکن کیامریض کو کڑوا لگتا ہے تو اسے غذا نہ دی جائے ہم اسے تودوادیتے ہیں اورجب اﷲ اسے جوں جوں صحت دیتا ہے تو اسے taste بھی درست لگنے لگ جاتا ہے اسی طرح اﷲاﷲ کی بات کریں تولوگ بھاگتے ہیں ،بدکتے ہیں۔

آپ دیکھیں گے لوگوں کا عجیب عالم ہے کہیں عرس ہورہا ہے کہیں کسی خانقاہ پہ اجتماع ہورہا ہے دو ر دور سے لوگ جوق در جوق آ جاتے ہیں کیا یہ تبدیلی کے لئے آتے ہیں؟ دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں اﷲ اﷲ کے لیے آتے ہیں نہیں یہ ایک خانقاہی نظام جو اصلاح احوال کے لیے تھا یہاں بھی لوگ دنیا کی طلب میں آتے ہیں طبقات الکبری میں ابن سعد پہلی جلد میں وہ لکھتے ہیں کہ مشرکین مکہ جب حضرت ابوطالب کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے دو باتیں کیں۔

پہلی بات تو ایک بہت خوبصورت نو جوان نو عمرلڑکاوہ ساتھ لائے کہ یہ بچہ آپ رکھ لیں اور اپنا بھتیجا ہمیں دے دیں ہم اسے قتل کردیں تو وہ ہنسے اور انہوں نے کہاکیا خوب! تمہارے بیٹے کو تو میں پالوں پوسوں اور میرے بیٹے کو لے جا کر تم قتل کر دو یہ تم نے سوچا کیسے ؟یہ تمہیں کیسے عقل آئی کہ میرابیٹا تم قتل کردو اور تمہارے بیٹے کی میں پرورش کروں؟ کہنے لگے اچھا آپ کویہ منظور نہیں تو پھر ایک اور بات کریں بات یہ ہے کہ (حضورﷺ کے بارے انہوں نے کہا )کہ آپ کا بھتیجا کہتا ہے کہ اﷲ مالک ہے اﷲ ایک ہے اﷲ پالتا ہے اﷲ پیدا کرتا ہے اﷲ مارتا ہے یہ ساری باتیں ہم مانتے ہیں ہمیں پتہ ہے اﷲ واحد ہے اﷲپیدا کرتا ہے اﷲ موت دیتا ہے اﷲ رزق دیتا ہے اﷲ زندہ رکھتا ہے یہ ہم بھی مانتے ہیں پھر جھگڑاکس بات کا ہے ؟۔

انہوں نے کہا جھگڑا یہ ہے کہ ہمارے یہ جو بتُ ہیں یہ بڑے بڑے نامور اور نیک لوگوں اور نبیوں اور ولیوں کے ہیں اور ان کی پوجا ہم اس لیے کرتے ہیں کہ یہ اﷲکے نزدیک ہماری سفارش کرتے ہیں اور اﷲ سے ہمیں زندگی لے کر دیتے ہیں ،دولت لے کر دیتے ہیں ہمارے کام کرواتے ہیں اگر ان کو ہم چھوڑ دیں تو ہماری اﷲ کیا سنے گا؟ ہم تو گئے گزرے لوگ ہیں ہماری وہاں تک رسائی کیسے ہو؟ تو جھگڑا صرف یہ ہے کہ یہ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑدیں تو یہ بتوں کے بغیر اﷲ کی پوجا کرتے رہیں ہم اپنے بتو ں کی پوجا کرتے ہیں وہ ہماری اﷲ کے ہاں سفارش کرتے ہیں تو ہم انہیں نہیں چھیڑیں گے یہ ہمیں نہ چھیڑیں تو ابو طالب نے بھی یہ فرمایاکہ بھئی بات تو ان کی معقول ہے اس بات پر تو کم ازکم ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

حضور اکرم ﷺ نے اس سب کی تردید فرمائی اور قرآن کریم کی تلاوت فرما کے فرمایا کہ میں تو وہ کہوں گا جو مجھ پر میرا اﷲ وحی نازل فرمائے گا اﷲکریم اگر ان بتوں کو رد کررہا ہے تو میں ان کو رد کروں گا اگر اﷲ انہیں جھوٹا کہے گا تو میں انہیں چھوٹا کہوں گا کیو نکہ میں وہ کہوں گا جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے آج کم وبیش ہم اسی اہل مکہ والے عقیدے پر آگئے ہیں اور جو مزارات یا خانقاہیں نیکی کا منبع تھیں وہاں سے ہم نیکی لینے نہیں جاتے صحیح عقائد سیکھنے نہیں جاتے کوئی تبدیلی لینے نہیں جاتے بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں یہ اﷲ سے ہمیں دنیاکی چیزیں لے کر دیتے ہیں تو اس عالم میں اور زیادہ مجاہدے کی ضرورت ہے محنت کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو اس مصیبت سے نکال کر صحیح راستے پہ لایا جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ پہلے خود صحیح راستے پر چلے اس کو سمجھے اس پرا س کا کامل یقین ہو جس بات پر بندے کو خود تردد ہو اس پر دوسرے کو قائل نہیں کر سکتا۔

میرے بھائی اپنے اسباق میں جتنا زیادہ وقت ہو سکے محنت کریں لطائف بہت زیادہ کریںا یک بات یاد رکھیں بڑے سے بڑا عالم،بڑے سے بڑا نیک، بڑے سے بڑا، بزرگ، شہید،برزح میں اپنے مقام پر رہتاہے اپنے مقام کو چھوڑ کر آجا نہیں سکتا سوائے اس آدمی کے جس کی روح نے دنیا میں قوت پرواز حاصل کر لی ہویہ صرف صوفیاء کی ارواح ہوتی ہیں کہ جو برزخ میں بھی سفر کر سکتی ہیں، آجا سکتی ہیں بارگاہ نبویﷺ میں جاتی ہیں اپنے منزل پر جاتی ہیں اگر دنیا میں بھی کہیں چاہیں تو آجاسکتی ہیں ان میں قوت پرواز ہوتی ہے۔

دنیا میں تبدیلی لانے کا جو آپ سوچتے ہیں اس کے لئے آپ کے اندر ایک قوت ہونی چاہئے حالات کی پرواہ نہ کریں حالات کیسے ہیں؟ حالات ہوتے رہتے ہیں نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے غلاموں اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کو عورتوں بچوں سمیت شعب ابی طالب میں بند کردیاگیا اور تین سال تک پوری قوم نے مقاطعہ رکھا بچوں کے رونے او ر بھوک سے بلبلانے کی آواز یں وادی سے باہر سنائی دیتیں تھیں اور پرانے چمڑے جلاکر ان کی خاک پھانک کر اوپر سے پانی پی کر صحابہ کرام ؓ نے گزارا کیالیکن تین سال کوئی شخص حر ف شکایت زبان پر نہیں لایا کہ یااﷲ کافروں کو برباد کردے یا اﷲ انہیں اجاڑ دے کوئی نہیں ملتا ،کسی نے نبی کریم ﷺ سے عرض نہیں کیا کہ ان کے لیے بدعا فرما دیں اس امید پہ رہے کہ یہ تنگی کے دن بھی گزر جائیں گے آخر توحید باری کا نعرہ غالب آئے گا یہ کون سی کیفیت ہے ؟

یہ اپنے ایمان کی طاقت ہے جو ان کے اندریقین تھا کہ کچھ بھی ہوجائے تین سال بعد وہ ختم ہوگیا اور یہ آخری سالوں میں تھا ایک دو سال حضورﷺ مکہ میں رہے پھر ہجرت ہوگئی اورہجرت کے بعد اسلامی ریاست بن گئی اور وہی لوگ اسی شہر کے فاتح کہلائے حرم کو بتوں سے پاک کردیا اور شہر کو بت پرستوںسے پاک کردیا۔اگر آپ حق پر ہیں تو نا امیدی کی کوئی وجہ نہیں جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ کفار سے کہہ دیں کہ ہمارے لیے دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے یا تو ہم تم پر فتح پائیں گے یا شہید ہو جائیں گے دونوں طرف ہماری بھلائی ہے او ر تمہارے لیے سوائے بربادی کے کچھ بھی نہیں ہے تومومن کے لیے دنیا کی کامیابی یا آخرت کی کامیابی دونوں میں سے ایک تو فوری مل جاتی ہے شہید ہو گیا تو دونوں جہانوں میں کامیاب ہوگیا ،فاتح ہوگیا دنیا میں کامیابی پالی۔

میرے بھائی اس کے لیے پہلے اپنے آپ میں تبدیلی لائیں سیکھیں اور سکھائیں محنت سے حاصل کریں اور اسے بانٹیں اﷲ آپ کی کوشش قبول کرے اور آپ کو مثبت تبدیلی لانے کا سبب بنا دے وہ قادر ہے کہ کسی کو بھی بھلائی کا سبب بنادے آپ اگر خلوص دل سے محنت کریں گے تو اس وقت جو جماعت متقدمین سے وابستہ ہے جو جماعت مشائخ عظام سے وابستہ ہے جو جماعت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ سے وابستہ ہے اورجس طاقت سے وابستہ ہے اس کی مثال اس وقت دنیا میں آپ لوگوں کے علاوہ کوئی دوسری نہیں اور بھی سلاسل ہیں جماعتیں بھی ہیں۔

ذکر بھی لوگ کرتے ہیں لیکن جو قرب ،جو مقام ،جو حیثیت اس وقت نقشبدیہ اویسیہ کو نصیب ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی تو یہ بہت مبارک بات ہے لیکن یہ اتنی ہی زیادہ اہم بھی ہے کہ اتنا ہی آپ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ آپ اس کے لیے اتنی ہی محنت ،اتنا ہی مجاہدہ کریں کہ اس کا حق ادا کریں آپ پاکستان کی بات کرتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ جو حیثیت آپ کی اس وقت بارگاہ رسالت ﷺ میں ہے مشائخ سے اور متقدمین سے رابطے کی ہے آپ پر اس وقت فرض عائد ہوتا ہے کہ آپ دنیا میں مثبت تبدیلی کا سوچیں روئے زمین پر ایک مثبت ،ایک عدل پسند ،ایک انصاف سے بھرپور معاشرہ قائم کرنے کا سوچیں کیوں کہ آپ کو وہ بہت زیادہ کیفیت حاصل ہے جو آپ کویہ بات سوچنے کا مکلف بنا دیتی ہے چہ جائے کہ ملک میں بھی انصاف نہ ہو ۔

لیکن میرے بھائی یہ تب ہو گا جب آپ اپنے اندر اس چیز کو سموئیں گے جب آپ کی اپنی فکر میں ،سوچوں میں افکار میں تبدیلی آئے گی تو تب باہر تبدیلی آئے گی میری دعا ہے اﷲتمام احباب کو محنت کی توفیق بھی دے سب کی محنت قبول بھی فرمائے اور اس جماعت کو اس مثبت تبدیلی کاسبب بنائے یہ تاریخی تبدیلی ہوگی اور اس کے لیے آپ کو بہت سی محنت کرنی چاہیے آپ دیکھتے ہیں لوگ سیاسی رتبہ حاصل کرنے کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں رات دن سفر کرتے ہیں تگ ودو کرتے ہیں پیسہ خرچ کرتے ہیں وقت لگاتے ہیں لوگ چھوٹے چھوٹے مفاد کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں؟ اگر آپ دنیا میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو پھر ہر ساتھی خود اپنی محنت کو دیکھے کہ میں محنت کیا کر رہا ہوں اور کرنا کیا چاہتا ہوں ؟ مجھ پر نہ چھوڑیں کسی دوسرے پر نہ چھوڑیں کہ وہ آپ کو جج کریں آپ اپنے جج خود بن جائیں اور خود اندازہ کریں کہ میں کیا کر رہا ہوں اور اس کے نتائج کہاں تک فیصلہ کن ہو سکتے ہیں ؟کہاں تک اثر انداز ہو سکتے ہیں؟

اس وقت دنیا میں الحمد اﷲ یہ واحد جماعت ہے کہ یہاں دارلعرفان (منارہ ۔ چکوال) میں جب رات کو ذکر ہوتا ہے تو جاپان سے امریکہ کے مغربی ساحلوں سے اور چین سے افریقہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اس میں شامل ہوتا ہے یعنی تاریخ تصوف میں یہ پہلی با ر ہے کہ اس طرح کے سائنسی آلات آ گئے کمپیوٹر ز کی دنیا آ گئی اور اسے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ ایک وقت میں روئے زمین پر تھوڑے سہی لیکن ہوتے روئے زمین پر ہیں تو اگر اﷲ نے اتنی رسائی دی ہے تو پھر ہم روئے زمین پر مثبت تبدیلی لانے کے مکلف ہیں وہ ہو گی یا نہیں ہو گی یہ اﷲ کا کام ہے ہماری زندگی، ہماری محنت،ہمارا مجاہدہ اس میں صرف ہونا چاہئے اورپھر اگرہم اپنے آپ میں مثبت تبدیلی نہ لا سکیں تو ہم باہر کیا کریں گے تو میرے بھائی اﷲ کے اس ارشاد عالی کے مطابق اپنے آپ میں تبدیلی لائیے خود کو منظم کیجیے ایک دوسرے کے کام آئیے بھلائی کو معاشرے میں پھیلائیے برائی سے لوگوں کو بچنے کی تلقین کیجیے اور اپنی پوری محنت کیجئے اس بات کو چھوڑ دیجیئے کہ کون اچھا ہے کون برا ہے؟ یہ میرا اور آپ کاکام نہیں ہے سب نے اﷲ کے حضور جانا ہے اس نے فیصلہ کرنا ہے کون اچھا ہے کون براہے؟ ہمیں لوگوں تک اﷲ کریم کا پیغام پہنچانا ہے اورخود اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہے میری دعا ہے کہ اﷲ کریم آپ کو اس میں کامیاب کرے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button