جہلم

جہلم میں سیلاب کو بنیاد بنا کر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں کم نہ ہو سکیں

جہلم: سیلاب کو بنیاد بنا کر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں کم نہ ہوسکیں۔ بلوچستان اور سندھ میں پیاز اور ٹماٹر کی فصل تباہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ کر دیا گیا، سبزی، پھلوں، دالوں کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے دور ہوگئیں، دکاندار سرکاری نرخ سے کئی گنا زیادہ قیمتوں پر اشیاء ضروریہ فروخت کرنے لگے۔

شہر کی سب سے بڑی سبزی منڈی میں ٹماٹر اور پیاز کی قلت کا بہانہ بناتے ہوئے من مرضی کے نرخ مقرر کر کے فروخت کئے جارہے ہیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرنے اور گراں فروشی روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

دکان داروں نے سرکاری نرخوں سے کئی گنا اضافی قیمت پر سبزی و پھل، دالیں فروخت کرنی شروع کررکھی ہیں، آ لو، پیاز، ٹماٹر، شملہ مرچ اور ادرک کو پر لگ گئے، آلو درجہ اول 100 سے120 روپے کلو فروخت ہورہے ہیں، پیاز دوم 150 روپے کلو، ٹماٹر دوم 220 روپے کلو، ادرک تھائی لینڈ 250 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شملہ مرچ 310 روپے کلو تک پہنچ گئی، پھول گوبھی 120 روپے، مٹر310 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ پھل سرکاری ریٹس سے 40 سے 50 فیصد زائد نرخوں پر فروخت ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور ایران سے ٹماٹر، پیاز امپورٹ کرتے ہوئے ٹیکسزکا بھی خاتمہ کیا جائے تا کہ سبزی کے بحران سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب مصنوعی مہنگائی کرنے والے گراں فروشوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مقدمات درج کئے جائیں تا کہ شہریوں کو ریلیف فراہم ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button