عام انتخابات: الیکشن میں حصہ لینے کیلئے امیدوار کی بنیادی اہلیت کی تفصیلات جاری

ملک میں عام انتخابات کےسلسلےمیں کاغذات نامزدگی کی وصولی کے آغاز کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے امیدواروں کی اہلیت سے متعلق شرائط اور ہدایات جاری کردیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کے لیے جاری شرائط اور ہدایات نامے میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی اہلیت و نا اہلیت سے متعلق آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 میں درج تفصیلات کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے کے لیے امید وار کا پاکستانی شہری ہونا لازمی ہے۔

اس کے مطابق امیدوار کی عمر 25 سال سے کم نہ ہو ، قومی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدار ملک میں کسی بھی جگہ کا ووٹر ہو سکتا ہے، صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے امید وارکا متعلقہ صوبہ کا رہائشی ہونا ضروری ہے، قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے امید وار کا متعلقہ صوبے کا ووٹر ہونا لازمی ہے۔

ہدایت نامے کے مطابق جنرل نشستوں کے امیدوار کے تجویز و تائید کنندہ کا متعلقہ حلقے کا ووٹر ہونا لازمی ہے، قومی اور صوبائی اسمبلی کی خواتین کا متعلقہ صوبے کا ووٹر ہونا ضروری ہے، غیر مسلم نشستوں کے تجویز اور تائید کنندگان بھی متعلقہ صوبے کا ووٹر ہونا چاہیے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے لیے غیر مسلم نشستوں کے امیدوار کے تجویز و تائید کنندہ ملک کے کسی بھی حصے کے ووٹر ہو سکتے ہیں، مخصوص نشستوں کے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ اپنے نام والی ترجیہی فہرست منسلک کرنا ہو گی، انتخابی اخراجات کے لیے امیدوار نیا بینک اکاؤنٹ کھولے گا یا پہلے سے موجود بینک اکاؤنٹ کی تفصیل دے گا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوار کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی اسٹامپ پیپر پر دے گا، امیدوار کو بیان حلفی کی تصدیق اوتھ کمشنر سے کرانا ہو گی، امیدوار کی جانب سے کاغذات نامزدگی تحریری طور پر مجاز شخص جمع کرا سکتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوار تیس ہزار اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار بیس ہزار روپے فیس جمع کرائیں گے، امیدوار کاغذات نامزدگی ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے چار بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے، کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے شناختی کارڈ کی مصدقہ نقول منسلک کرنا لازمی ہو گی۔

جاری ہدایت نامے کے مطابق تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کا مصدقہ ووٹر سرٹیفکیٹ بھی منسلک کرنا لازمی ہے، امیدوار کو تین سال کا انکم ٹیکس ریٹرن منسلک کرنا لازمی ہو گا، امیدوار کے پاسپورٹ کی مصدقہ کاپی بھی کاغذات کے ساتھ منسلک کرنا ہو گی، امیدوار کی آٹھ دسمبر دو ہزار تئیس تک کی بینک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ بھی لازمی دینا ہو گا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ امیدوار کا کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانا بھی لازمی ہے، امیدوار کا اپنے اہلخانہ سمیت زیر کفالت افراد کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدوار کا مختص کردہ شخص نوٹری پبلک یا اوتھ کمشنر کے جاری کردہ لیٹر کے ذریعے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتا ہے، کاغذات نامزدگی بیس دسمبر سے بائیس دسمبر تک جمع کروائے جا سکتے ہیں، امیدوار کسی ایک حلقہ میں ایک فیس پر زیادہ سے زیادہ پانچ کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتا ہے۔

الیکشن آف پاکستان کی جانب سے یہ ہدایت نامہ ایسےوقت میں جاری کیا گیاہے جب کہ عام انتخابات کے شیڈول کے مطابق انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات کے خاتمے کے ساتھ انتخابی عمل کا گزشتہ روز سے باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے اور کاغذات نامزدگی اجرا کے حوالے سے ریٹرننگ افسران نے پبلک نوٹس جاری کردیے ہیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ 20 تا 22 دسمبر ہے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 24 سے 30 دسمبر ہو گی، اعتراضات 3 جنوری تک دائر کیے جا سکیں گے،کاغذات نامزدگی کےخلاف اپیلیں 10 جنوری تک سنی جائیں گی۔

ترجمان کے مطابق امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست 11 جنوری 2024 کو جاری کی جائے گی، 13 جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کیے جائیں گے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق مخصوص نشستوں کےامیدواران کاغذات نامزدگی متعلقہ ریٹرننگ آفیسروں اور ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن سے سو روپے فیس ادا کر حاصل کرسکتے ہیں۔

بیان کے مطابق کاغذات نامزدگی 20 سے 22 دسمبر تک اپنے متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس مقررہ وقت پر جمع کروانا لازم ہے، سیاسی جماعتیں 22 دسمبر تک مخصوص نشستوں کی امیدواروں کی ترجیح لسٹ متعلقہ ریٹرننگ آفیسروں کو فراہم کردیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button