جہلم

ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس منافع خوروں کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔ شہری حلقے

جہلم: شہری تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس منافع خوروں کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں، انتظامیہ کی جانب سے آٹا 56 روپے کلو فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ منافع خورمن پسند نرخوں پر آٹا اور سبزیاں فروخت کر رہے ہیں، مہنگائی سے پریشان عوام مزید اذیت کا شکار ہونے لگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سبزی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے ،سبزیوں کے نرخوںمیں کمی کے احکامات کو بھی ہوا میں اْڑا دیا گیا ہے، منافع خور 110 اور 120 روپے فی کلو کے حساب سے آٹا فروخت کر رہے ہیں۔

عمائدین کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو فرصت نہیں کہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے انتظامیہ کو پابند بنائیں تاکہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام فعال ہو سکے۔ انتظامیہ بلند و بانگ دعوے کرکے سب اچھا ہے کا راگ آلاپ رہی ہے ۔ ضلع بھر میں مہنگائی عروج پر ہے، نہ مقررہ قیمتوں پر دودھ ، دہی فروخت کیا جا رہا ہے اور نہ ہی سرکاری نرخ ناموں کے مطابق اشیاء ضروریہ دستیاب ہیں بلکہ سبزی فروش بھی من مانے نرخوں پر فروخت کی جارہی ہیں اگر دکانداروں سے نرخوں کی بابت دریافت کیا جائے تو دکاندار لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتظامیہ نے ناجائز منافع خوروں کو 1 ہزار روپے جرمانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے جو سبزی ، فروٹ ، کریانہ، سمیت دیگر تنظیموں کے عہدیداران نے جمع کروانا ہوتا ہے جس کیوجہ سے کارروباری افراد کو پرائس کنٹرول مجسٹریٹس یا انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں۔

شہریوں تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیاہے کہ گراں فروشی کے مرتکب دکانداروں کو کم از کم 10 ہزار روپے جرمانہ کرنے اور فوجداری مقدمات درج کروانے کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ گراں فروشی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button