جہلم

ضلع جہلم سے آبی پرندوں کی آبی قیام گاہیں عدم توجہی کے باعث ختم ہونے لگیں

جہلم: ضلع بھر سے آبی پرندوں کی آبی قیام گاہیں عدم توجہی کے باعث ختم ہونے لگیں۔

آبی قیام گاہوں کا شمار جہلم کی مشہور شکار گاہوں میں ہوتا ہے۔ جن میں چوٹالہ، دارا پور، دلاور، وچلہ بیلہ، ملک پور، رسول بیراج، جلالپور شریف، کانیانوالہ، سکندر پور میں صدیوں سے قدیمی شکار گاہیں موجود ہیں، جہاںسائبرین پرندے سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی قیام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

جہلم سمیت صوبہ بھر کے شکاری مرغابی، مگھ، نیل، سرکونج ،مچھلی سمیت آبی پرندوں کا شکار کھیلنے کے لئے موسم سرما کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں ، سائبرین پرندوں کی آمد کے ساتھ ہی شکاری مقامی افراد کی مدد سے ان شکار گاہوں میں عارضی بنیادوں پر ڈیرے ڈال لیتے ہیں جہاں نایاب پرندوں کی نسل کشی کی جاتی ہے۔

ان عارضی قیام گاہوں پر برفانی علاقوں روس، سائبریا، چین سے ہجرت کرکے آنے والے پرندے قیام کرتے ہیں جس سے مقامی افراد کو جنگلی چرند پرند کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے اور مضافاتی علاقوں سے شکاری ان آبی پرندوں کی قیام گاہوں میں آکر شکار کیلئے دن رات ڈیرے جمالیتے ہیں۔ پانی کی کمی اور کم بارشوں نے ان معروف آبی پرندوں کی قیا م گاہوں کا حسن چھین لیاہے اور یہ آبی پرندوں کی قیام گاہیں محکمہ وائلڈ لائف کی عدم توجہی کے باعث خود شکار ہو کر رہ گئیں ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے ان آبی پرندوں کی قیام گاہوں کو دوبارہ مصنوعی طریقوں سے آباد کیا جائے تا کہ یہ آبی پرندوں کی قیا م گاہیں ایک مرتبہ پھر آباد ہو سکیں اور جنگلی حیات کے فروغ کا باعث بن سکیں جس سے سیاحت کو بھی پروان چڑھایا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button