دینہ

ذاتی فتح و شکست کو بالائے طاق رکھ کر ملک کا سوچنا ہوگا۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ ذاتی فتح و شکست کو بالائے طاق رکھ کر ملک کا سوچنا ہوگا، اپنا کردار اس طرح ادا کریں کہ وہ بارش کا پہلا قطرہ ہی کیوں نہ ثابت ہو۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر دارالعرفان منارہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بندہ مومن کی حقیقی آزادی اتباع رسالت ﷺ میں پنہاں ہے، کسی بھی ملک کی تعمیر میں کئی سوسال لگ جاتے ہیں لیکن تخریب کے لیے چند ماہ کافی ہیں۔ہم تعمیر کے نام پر تخریب میں لگے ہوئے ہیں معاشرہ میں جب بگاڑ آئے گا تو کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس ظلم میں جو جتنا شریک ہو گا اس کو اتنا جواب دینا ہوگا۔یہ کونسا انصاف ہے جو اتفاق پر عملدرآمد نہ ہونے دے۔ آج جو ملکی حالات چل رہے ہیں سب اپنی ذات کو مقدم رکھ کر چل رہے ہیں اجتماعی سوچ تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ ملک و قوم اولین درجے میں ہو۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ میرا تعلق صرف ایک جماعت سے ہے جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کی ہے۔ میرا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے۔ وطن عزیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کے دشمن موجود ہیں ہمارے پاس اللہ کے دئیے ہوئے قوانین موجود ہیں بس ان کے اطلاق کی ضرورت ہے آج جو حقیقی آزادی کی بات ہو رہی ہے یہ کون سی حقیقی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔حقیقی آزادی اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دوسروں پر نظررکھنے کی بجائے اپنے بارے سوچنے کی ضرورت ہے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج جو کچھ بھی ہورہا ہے صرف اپنی اپنی ذات کی لڑائی لڑ رہے ہیں ملک و قوم کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں تا کہ ہم صحیح اور غلط کی پہچان کر سکیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button