مخلوط نہیں بلکہ قومی حکومت تشکیل پائے گی، فواد چوہدری

اینٹی کرپشن عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں انتخابات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں،مخلوط نہیں بلکہ قومی حکومت تشکیل پائے گی، آزاد امیدواروں پر کوئی پابندی نہیں، وہ اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔

راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف کرپشن کیس بغیر کارروائی کے 22 فروری کو ملتوی کردی۔

سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو جہلم کی تحصیل دینہ کے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کرپشن کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج علی نواز کی عدالت میں پیش کیا گیا، سماعت بغیر کارروائی 22 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

جج نے محکمہ اینٹی کرپشن کی تفتیشی ٹیم کو آئندہ تاریخ پر چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا، فواد چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی توسیع کر دی گئی۔

بعدازاں اینٹی کرپشن عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پوری دنیا نے انتخابات پرسوالات اٹھائے ہیں، جس طرح کے انتخابات ہوئے ہیں سب کے سامنے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ آسٹریلیا امریکا اور برطانیہ سمیت پوری دنیا نے انتخابات پر سوالات اٹھائے ہیں، 1965 ایوب خان کے دورمیں جو الیکشن ہوئے تھے اس کے بعد یہ الیکشن بھی یاد رکھے جائیں گے، جو پی ٹی آئی میں نہیں ہے، آزاد امیدواروں پر کوئی پابندی نہیں، وہ قانون کے مطابق اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔

واضح رہے کہ 11 دسمبر کو راولپنڈی کی اینٹی کرپشن عدالت نے 35 لاکھ روپے کے بدعنوانی کیس میں فواد چوہدری کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا، فواد چوہدری کو دوبارہ 22 فروری کو عدالت پیش کیا جائے گا۔

فراڈ کیس میں فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

دوسری جانب اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے فراڈ کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ ڈاکٹر سہیل تھہیم نے فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، سابق وفاقی وزیر کی جانب سے وکیل قیصر امام عدالت میں پیش ہوئے جبکہ فواد کی اہلیہ حبا فواد بھی عدالت میں موجود تھیں۔

وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2021 کی بات ہے، فواد چوہدری پر 50 لاکھ روپے لینے کا الزام ہے، الزام کے مطابق مدعی نے پیسے دیئے اور بدلے میں فواد نے نوکری کا کہا، سابق وفاقی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کروانے والے مدعی کو کبھی نہیں دیکھا۔

سول جج سہیل تھہیم نے ریمارکس میں کہا کہ فواد چوہدری کے کیس میں تو مدعی خود پھنستے ہیں جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ ایسے مقدمات متعدد سیاستدانوں کے خلاف درج کیے گئے ہیں، مدعی نے الزام لگایا کہ پیسے واپس مانگنے پر فواد چوہدری نے دھمکی دی۔

فواد چودھری کے وکیل نے کہا کہ مدعی کے مطابق غیرقانونی اقدامات کے لیے فواد کو پیسے دیئے تھے، ایک عام آدمی نے اٹھ کر کہہ دیا کہ 50 لاکھ روپے فواد چوہدری کو دیئے تھے، مدعی مقدمہ کا کوئی مالی ریکارڈ عدالت کے سامنے نہیں آیا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے دلائل سننے کے بعد سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button