جہلماہم خبریں

جہلم میں پی ٹی آئی دھڑے بندی کا شکار، تمام دھڑے صرف اپنے استقبالیہ کو کامیاب بنانے کیلئے کوشاں

جہلم میں پی ٹی آئی دھڑے بندی کا شکار، پی ٹی آئی عرصہ قبل عمران خان کے ناکام جلسے کے بعد حقیقی آزادی لانگ مارچ کو جی ٹی روڈ سے اندرون شہر جہلم لا کر کامیاب بنانے کے لیے کوشاں، پہلے دن جہلم شاندار چوک اور دوسرے دن دینہ میں مارچ کا پڑاؤ ہو گا۔ الگ الگ مقامات پر استقبال کی تیاریاں۔ اندرون شہر لانگ مارچ کو سیاسی حکمت عملی سے ہجوم بنا کر عوامی طاقت ظاہر کرنے کی کوشش کی جائے گی، تمام دھڑے اپنے تائیں اپنے استقبالیہ کو کامیاب بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے جاری حقیقی لانگ مارچ کا سفر آہستہ آہستہ جہلم کی طرف جاری ہے۔ جہلم میں پی ٹی آئی عرصہ دراز سے متعدد دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا جہلم ضمیر جعفری اسٹیڈیم میں ناکام جلسہ اسکی زندہ مثال بن چکا ہے۔ جلسے کی ناکامی کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی رہنماؤں نے حقیقی آزادی مارچ کا رخ بھی اندرون شہر موڑنے کی ٹھان لی ہے۔

جی ٹی روڈ پر حوصلہ افزا ہجوم نہ ہونے کے خوف سے سیاسی حکمت عملی کے تحت لانگ مارچ کو اندرون شہر شاندار چوک لایا جائے گا جہاں عام حالات میں بھی اگر ٹریفک کے نظام میں تعطل پیدا ہو تو چاروں اطراف رش کی وجہ سے گزرنا محال ہو جاتا ہے۔

پی ٹی آئی اکابرین کی یہ سیاسی حکمت عملی ہے کہ شاندار چوک میں تھوڑے ہجوم کے باوجود چاروں اطراف چوک کی بندش سے وہ اسے اپنا سیاسی شو آف پاور بنائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق حقیقی آزادی مارچ کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔لانگ مارچ کے روٹ اور جلسہ کی سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی مارچ کی کامیابی کے لیے متحرک نظر آ رہی ہے۔

معتبر ذرائع کے مطابق جہلم میں مارچ کا متعدد جگہوں پر الگ الگ اسقبالیہ ہو گا۔ جہلم میں ایک دن مارچ اور جلسہ کے بعد اگلا پڑاؤ دینہ بعد ازاں سوہاوہ میں ہو گا۔

قابل ذکرامر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام دھڑے اپنے اسقبالیہ کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سا دھڑا جہلم میں سب سے زیادہ کارکنوں اور عوام کو مارچ اور جلسہ میں لانے میں کامیاب ہو گا۔ مارچ کی کامیابی کے لیے وہ دھڑے بھی متحرک ہو چکے ہیں جن کی عدم دلچسپی کی وجہ سے عمران خان کا جہلم میں جلسہ ناکام ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button