سوہاوہ میں جی ٹی روڈ پر مسلح افراد کا دو گاڑیوں پر مبینہ حملہ

سوہاوہ: تھانہ سوہاوہ میں جی ٹی روڈ پر دو گاڑیوں پر مبینہ حملہ، سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ حملہ آوروں کی گاڑی کو پیچھے کرتے دیکھا جا سکتا ہے جس سے تین سے چار مسلح افراد نکلے جنہوں نے پستول تان لیں۔

دو گاڑیوں کو ٹارگٹ کیا گیا مگر پستول میں گولیاں پھنسے سے پستول نہ چلی جس سے گاڑیوں سوار افراد معجزانہ طور پر بچ گئے۔

تھانہ سوہاوہ پولیس نے سی سی فوٹیج دیکھنے کے بعد مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس متحرک ہے، پولیس نے محمود قریشی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔

محمود قریشی نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوور کوئی اور نہیں بلکہ ایک ڈی ایس پی کا بیٹا ہے جو اپنے سکیورٹی گارڈ لیکر دھندناتا پھرتا ہے، لوگوں کے لئے وبال جان بن چکا ہے۔

محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ایسے اسلحہ بردار دھندناتے پھر رہے ہیں، ہماری جان کو شدید خطرہ ہے، ایک ڈی ایس پی جو حاضر ڈیوٹی ہے وہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ پولیس افسران کو پھر سفارشات کرتا ہے کہ مقدمہ نہ درج کریں، مداخلت بھی کرتا ہے، پولیس نے ہماری درخواست پر مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید رکھتے ہیں کہ پولیس جلد ملزمان کو گرفتار کرکے کفرکراد تک پہنچائے گی، اگر میں موقع سے گاڑی نہ بھگاتا اور انکی پستول میں گولیاں نہ پھنستی تو آج ہم زندہ نہ ہوتے۔

متاثرہ افراد نے کہا کہ اعلی حکام، آئی جی پنجاب اور وزیر اعلی پنجاب واقعہ کا نوٹس لیں۔ ایک ڈی ایس پی قانون سے کیسے بالاتر ہوسکتا ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے، ڈی ایس پی کی ابھی تک گرفتاری نہیں ہو سکی کیونکہ وہ پولیس آفیسر ہے۔

دوسری جانب ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ کا کہنا ہے کہ کاروائی ہوگی ضرور ہوگی، ہم نے ڈی ایس پی کے خلاف لکھ کر آئی جی پنجاب کو بھیج دیا ہے، قانون سب کے لئے برابر ہے کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button