حکومت بچوں کے دودھ کی بجائے سگریٹ ، نسوار پر ٹیکس بڑھا کر مطلوبہ ریونیو حاصل کرے، سماجی حلقے

جہلم: حکومت بچوں کے دودھ کی بجائے سگریٹ ، نسوار پر ٹیکس بڑھا کر مطلوبہ ریونیو حاصل کرے، اشیاء ضروریہ پر نافذ ٹیکسز کے خاتمے کا اعلان کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار جہلم شہر کی سماجی تنظیموں کے عمائدین سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عمائدین کا کہنا ہے کہ حکومت روز مرہ کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکسز لاگو کرنے کی بجائے تمباکو ، سگریٹ، نسوار سمیت مہلک نشہ آور اشیاء پر ٹیکس عائد کرے۔

انہوں نے کہا کہ تمباکونوشی سمیت نشہ آور اشیاء کے استعمال سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ دوسری جانب تمباکو کے استعمال سے روزانہ درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً سینکڑوںپاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔پاکستان کے بچے سب سے زیادہ سگریٹ نوشی کا شکار ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو ، سگریٹ، نسوار پر بھاری ٹیکسز عائد کرنے چاہیے، اس طرح اشیاء ضروریہ پر لگائے جانے والے ٹیکسز کے باعث عام لوگوں کے لیے یہ بوجھ برداشت کرنا مشکل ہو چکا ہے ۔

عمائدین کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے دودھ پر ٹیکس عائد کرنے کی بجائے ایسی اشیاء پر ٹیکس نافذ کئے جائیں جو عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں، حکومت ٹیکس بھی حاصل کرے گی اور وہ تمام اشیاء جو عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں ان کا خاتمہ بھی ممکن ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button