جہلم

سول ہسپتال جہلم کے شعبہ گائنی میں تعینات ڈاکٹرز نے نجی میڈیکل سٹورز مالکان سے معاملات طے کر لئے

جہلم: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں جنگل کا قانون نافذ، شعبہ گائنی میں لیڈی ڈاکٹرز کی لوٹ مار، عروج پر سول ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی، شعبہ گائنی میں تعینات ڈاکٹرز نے نجی میڈیکل سٹورز مالکان سے معاملات طے کر لئے، متعلقہ افسران خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق محلہ کریم پورہ کے رہائشی محمد شہزار انور نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل اپنی بیوی کو لیکر سول ہسپتال کے شعبہ گائنی میں گیا جہاں لیڈی ڈاکٹرز نے میری بیوی کو صحت کارڈ پر داخل کیا اس کے بعد ہسپتال میں موجود سہولیات فراہم کرنے کی بجائے مفت ہونے والے ٹیسٹ کی رقم وصول کی جاتی رہی جبکہ آپریشن کے بعد جب ہمیں ہسپتال سے فارغ کیا گیا تو شعبہ گائنی میں ڈیوٹی سرانجام دینے والی لیڈی ڈاکٹر نے سرکاری ادویات دینے کی بجائے ایک چٹ تھما دی اور تلقین کی گئی کہ ہسپتال کے باہرموجود میڈیکل سٹور سے ادویات خرید لی جائیں۔

مریضہ کے لواحقین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر میاں مظہر حیات سے مطالبہ کیاہے کہ سول ہسپتال کے شعبہ گائنی میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے انکوائری کروائی جائے اور نجی میڈیکل سٹورز مالکان کے ساتھ معاملات طے کرنے والی لیڈی ڈاکٹر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ حکومت پنجاب کی طرف سے مفت طبی سہولیات سے مریض مستفید ہو سکیں ۔

موقف جاننے کے لئے سول ہسپتال کی ڈی ایم ایس ڈاکٹر سائرہ سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کسی ڈاکٹر کو بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ ہسپتال میں داخل مریضوں کے لئے باہر سے ادویات منگوائیں جس ڈاکٹر نے ادویات لکھ کر دی ہیں میرٹ پر انکوائری کروا کر سزا دی جائے گی۔
سول ہسپتال جہلم کے شعبہ گائنی میں تعینات ڈاکٹرز نے نجی میڈیکل سٹورز مالکان سے معاملات طے کر لئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button