دینہاہم خبریں

عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف ضلع جہلم کی تنظیم کی سخت سرزنش

دینہ: چیئرمین پی ٹی آئی کی پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداران کے کنونشن میں ضلع جہلم کی تنظیم کی سخت سرزنش۔ جہلم کی تنظیم کیا کر رہی ہے آپ بہت ہی سست روی سے تنظیمی امور چلا رہے ہیں ایسے کام نہیں چلے گا۔ عمران خان

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تحریک انصاف کے عہدیداران کا کنونشن کے پی کے ہاؤس اسلام آباد میں منعقد کیا گیا جس میں ضلع جہلم اور مری کے عہدیداران، جہلم کے ممبران صوبائی اسمبلی اور کارکنوں کو شمولیت کی دعوت دی گئی۔ عمران خان نے ضلع جہلم کی تنظیم کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ جہلم میں کیا کر رہے ہیں آپ نہایت ہی سست روی سے تنظیمی امور چلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کا کارکنان سے رابطہ کا فقدان ہے ایسے کام نہیں چلے گا پہلے تو ایسا نہیں تھا اب یہ کیوں ہو رہا ہے مجھے سب پتہ ہے کہ ضلع جہلم کی تنظیم کیا کر رہی ہے۔

جہلم میں پی ٹی آئی کی تنظیم کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے 27 اگست والا جلسہ بھی بری طرح فلاپ ہوا تھا جس کا غصہ گزشتہ روز راولپنڈی میں کنونشن کے دوران عمران خان نے نکالا اور کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ جہلم میں تنظیم کیا کر رہی ہے۔ عمران خان نے لانگ مارچ کے حوالے سے جہلم کی تنظیم کو زیادہ سے زیادہ کارکنان کو لانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اب تنظیم کو کام کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ اس وقت جہلم میں پاکستان تحریک انصاف دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے جس کا نقصان پارٹی کو بھی پہنچ رہا ہے، پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما ندیم افضل بنٹی کی سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے چپقلش بھی پاکستان تحریک انصاف کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

دو روز قبل قلعہ روہتاس میں پاکستان تحریک انصاف بنٹی گروپ کے کچھ سینئر کارکنان ایک نجی فارم ہاؤس میں ایک پارٹی میں شریک تھے جس میں شدید فائرنگ کی گئی اور تھانہ دینہ پولیس نے چھاپہ مار کر 20 افراد کو گرفتار کر لیا تھا اور ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی تھی جس پر ندیم افضل بنٹی نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ یہ سب سابق وفاقی وزیر کا کیا دھرا ہے اور ان کے کہنے پر ہی پولیس نے ایف آئی آر بھی درج کی جبکہ سابق وفاقی وزیر پر اور بھی کئی الزامات لگا دیئے۔

ان دونوں گروپوں کی وجہ سے نقصان پاکستان تحریک انصاف کا ہی ہو رہا ہے اور دیرینہ کارکنان اس وقت تذبذب کا شکار ہی نظر آرہے ہیں۔ 27 اگست کے جلسہ کے فلاپ ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی نظر آ رہی ہے جبکہ گزشتہ لانگ مارچ میں بھی جہلم کی تنظیم کوئی کارکن نکالنے میں بری طرح ناکام رہی تھی اور فواد چوہدری میر پور سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے منگلا کے مقام پر روک لیے گئے تھے۔

اس وقت پی ٹی آئی کارکنان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کو تو چاہیے تھا کہ وہ اپنے ضلع سے کارکنان کو نکالتے اور ریلی کی قیادت کرتے لیکن یہ بھی ایک پراسرار کہانی تھی اور اب راولپنڈی کے کنونشن کے ناکام ہونے کی وجہ سے ہی عمران خان نے جہلم کی تنظیم کی سخت الفاظ میں سرزنش بھی کی۔

عمران خان نے لانگ مارچ کے حوالے سے جہلم کی تنظیم کو زیادہ سے زیادہ کارکنان کو لانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اب تنظیم کو کام کرنا پڑے گا اب دیکھتے ہیں کہ لانگ مارچ کی تاریخ دینے کے بعد ضلع جہلم کی تنظیم اپنے کارکنان کے ساتھ رابطہ میں رہتی کہ نہیں اور سرزنش کے بعد اس سے سبق حاصل کرتی ہے یا وہی پرانی روایت کو برقرار رکھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button