جہلم

جہلم میں تعلیمی اداروں کے مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال کرنے میں مصروف

جہلم: محکمہ لیبر کے ذمہ داران کی عدم دلچسپی تعلیمی اداروں کے مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال کرنے میں مصروف، محکمہ لیبر کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھرمیں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کی جانب سے لوٹ مار کا بازار گرم، اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان انتہائی کم اجرت پرنجی تعلیمی اداروں میں نوکریاں کرنے پر مجبور، لیبر ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری، متاثرہ اساتذہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

حکومت پنجاب کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ملازمتیں مہیا کرنے کے دعوے کہیں بھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ معاشی بدحالی ،کورونا اور حالات کے ستائے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری اور کمر توڑ مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر انتہائی کم اجرت پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نوکریاں کر نے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب مذکورہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان روشن مستقبل کے سہانے سپنے دکھا کر طلبہ و طالبات سے ماہانہ کی بنیاد پر بھاری فیسیں وصول کرنے میں مصروف عمل ہیں، اگر جائزہ لیا جائے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان نے طلبہ کے والدین کی جیبوں پر ڈاکے ڈالتے ہوئے کچھ ہی سالوں میں اپنی بلند و بانگ عمارتیں، پلازے، کوٹھیاں اور لکثری گاڑیوں کے مالک بن چکے ہیں۔

دولت اور لالچ کے حوس میں مبتلا مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں کو انتہائی کم اجرت ادا کرکے کھلم کھلا لیبر ایکٹ کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، کوئی شبہ نہیں کہ تعلیمی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

نوجوانوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیاہے کہ لیبر لاء کے مطابق ضلع جہلم میں موجود ڈسٹرکٹ لیبر آفیسر کو نجی اداروں کے مالکان کے ساتھ مک مکا کرنے کی بجائے قانون پر عملدرآمد کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان پر توجہ مرکوز کرکے پڑھی لکھی قوم دے سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button