جہلماہم خبریں

جہلم کے ہسپتالوں کی انتظامیہ صحت کارڈ پر علاج معالجہ کے لیے من مرضی کے نرخ وصول کرنے لگی

جہلم کے سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں کی انتظامیہ صحت کارڈ پر علاج معالجہ کے لیے من مرضی کے نرخ وصول کرنے لگی، ادویات کی قیمتوں کے من پسند نرخ لگا کر صحت کارڈ سے کٹوتی کی جا رہی ہے۔

حکومت کی طرف سے جہلم میں 5 سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں کو صحت کارڈ پر علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی گئی تاکہ شہری پرائیویٹ یا سرکاری ہسپتالوں سے مفت علاج معالجہ کرواسکیں اور ایک خاندان کو سال میں 10 لاکھ روپے تک علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کی گئی اور ان کے شناختی کارڈ کو بھی صحت کارڈ میں تبدیل کر دیا گیا جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا پنجاب کے عوام کے لئے اعلیٰ اقدام ہے، تاہم حکومت صحت کارڈ پر مختلف امراض کینسر ،لیور ٹرانسپلانٹ، ڈلیوری، سرجری اور دیگر امراض کے لیے ڈاکٹروں کی فیس اور ادویات کی قیمتوں کا تعین نہیں کر سکی۔

یہاں پرقابل ِذکر بات یہ ہے کہ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے ذمہ داران من مرضی کے بل بنا کر شہریوں کے صحت کارڈ سے رقم وصول کرلیتے ہیں جب شہریوں کو میسج موصول ہوتا ہے تو انہیں پتا چلتا ہے کہ ہر ہسپتال کی انتظامیہ نے ادویات کے الگ الگ نرخ مقر ر کر رکھے ہیں۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیاہے کہ آپریشن اور ادویات کے ایک جیسے ریٹ مقرر کئے جائیں تاکہ مہلک موذی امراض میں مبتلا مریض زیادہ سے زیادہ حکومتی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button