جہلم میں گھریلو ملازمہ پر تشدد، چشم دید گواہ پر گولیاں چلا دی گئیں، پولیس خاموش

جہلم: تھانہ صدر کے علاقہ شیخ قریشیاں میں ڈیڑھ ماہ قبل گھریلو ملازمہ پر تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، تشدد کے چشم دید گواہ پر دباؤ، بات نہ ماننے پر گولیاں چلا دی گئیں، جہلم پولیس کی خاموشی سوالیہ نشان ؟۔

ڈیڑھ ماہ سے مقدمہ درج ہوا مگر گرفتاری نہ عمل میں لائی گئی، ملزمان نے عبوری ضمانیں کروا لیں، چشم دید گواہ نے الزام عائد کیا کہ ڈی ایس پی کی آشیر باد پر تشدد کا واقعہ پیش آیا، چشم دید گواہ پر گولیاں بھی ڈی ایس پی کی آشیر باد پر برسائی گئیں، پولیس نے مقدمہ درج کرلیا مگر بااثر ملزمان کی گرفتاری نہ ہوسکی۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے ہیں، گرفتاری کے ڈر سےملزمان نے عبوری ضمانتیں کروالی ہیں۔

مضروب افراد کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی پر مقدمہ درج ہے پھر بھی انکوائری میں آتا ہے جس کی گرفتاری نہیں ہو رہی، پولیس اپنے پیٹی بھائی کو بچانے میں مصروف ہے، اس سے قبل بھی دو مقدمات درج ہو چکے ہیں، اس میں بھی کوئی کارروائی نہیں عمل میں لائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی فریاد کس کے پاس لیکر جائیں، پولیس ساتھ نہیں دیتی، اگر دیتی ہوتی تو ایسے واقعات جنم نہ لیتے۔ پولیس میرٹ پر کام کرے تو بااثر ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ پولیس کو جب پہلے دن اطلاع دی اسی وقت کارروائی ہو جاتی تو آج ہمیں گولیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ بااثر ملزمان اسلحہ لہراتے پھرتے ہیں، علاقہ میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں، اگر ایسے ہی چلتا رہا پھر سے ہمیں گولیوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button