کالم و مضامین

لانگ مارچ اور حقیقی نظریاتی بمقابلہ خود ساختہ نظریاتی

تحریر: عامر کیانی

پاکستان میں دھرنوں اور احتجاج کی تحریکیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں ماضی میں ہونے والے ان دھرنوں کے باعث بعض حکمرانوں کو اقتدار سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ پاکستانی سیاست میں لانگ مارچ اور دھرنے اہمیت تو رکھتے ہیں، لیکن اکثر حکومتیں ان سے خائف نہیں ہوتیں۔ ماضی میں ہونے والے ان دھرنوں سے طاقت کے استعمال اور مذاکرات کے ذریعے نمٹا گیا بیشتر ان دھرنوں کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہوتا ہے اور اکثر اس دباؤ کے باعث طاقتور مراکز اس کا فائدہ بھی اٹھاتے رہے ہیں۔

لبرٹی چوک لاہور سے شروع ہونے والا تحریک انصاف کا آزادی مارچ پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا وزیر آباد میں 3 نومبر کو ہونے والے واقعہ کے بعد ایسے محسوس ہوا کہ اب یہ لانگ مارچ آگے نہیں بڑھے گا سیاسی مبصرین اس وقت حیران رہ گئے جب سانحہ وزیر آباد کے صرف دو روز بعد چیئر مین تحریک انصاف عمران خان نے اعلان کیا کہ لانگ مارچ ہوگا بلکہ وزیر آباد سے ہی شروع ہوگا جہاں سے اس کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔

اگلا سوال یہ تھا کہ عمران خان کے بغیر یہ مارچ کیسے کامیاب ہوگا؟ یہ توقع تو کی جا رہی تھی کہ پی ٹی آئی کے سربراہ پر قاتلانہ حملے کے بعد کا ردِ عمل لانگ مارچ میں نظر آئے گا لیکن اس قدر زیادہ ہوگا اس کی شاید سیاسی مبصرین توقع نہیں کر رہے تھے۔ عمران خان کے اعلان کے بعد لانگ مارچ کا دوبارہ شروع ہوا، جماعت کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور دیگر قیادت نے لانگ مارچ کو وزیرآباد ہی سے آگے بڑھایا۔ تاہم ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر نے ایک ریلی کا آغاز پنجاب کے ضلع فیصل آباد سے بھی کر دیا۔

ان قافلوں کی منزل راولپنڈی ہوگی یا اسلام آباد یہ تو 26 نومبر کو پتا چلے گا جب عمران خان اس قافلے کو لیڈ کرنا شروع کرینگے ۔ ان قافلوں کا ہر شہر میں بھرپور استقبال کیا گیا لیکن جو ویلکم جہلم کی دھرتی کے باسیوں نے کیا ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ جہلم پہنچنے سے کئی روز پہلے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں تھی، ٹیم فواد نے جس طرح محنت لگن اور جزبے سے کام کیا اسکی مثال نہیں ملتی ۔ یہ ٹیم پچھلے سات ماہ سے مسلسل عملی میدان میں جدوجہد کر رہی ہے۔

انصاف کی بنیاد پر دیکھا جائے تو جہلم میں جو گروپ عمران خان کے نظریے کیساتھ چٹان کی طرح مشکل ترین وقت میں دل و جان سے کھڑا رہا وہ فواد چوہدری کا گروپ ہے۔ فواد چوہدری نے جس طرح قومی سطح پر عمران خان کا ساتھ مشکل ترین وقت میں دیا وہ سب کے سامنے ہے، جہلم میں سخت ترین وقت میں جس میں 25 مئی سر فہرست ہے کو جو ظلم و ستم ہوا اور جس بہادری سے اس کا سامنا کیا گیا۔

تحریک انصاف جہلم کے جنرل سیکرٹری فراز چوہدری اور انکی تمام ٹیم جس میں تحصیل دینہ ، سوہاوہ، پنڈدادنخان کے تحریک انصاف کے اکابرین اور کارکنان شامل ہیں، تعریف میرٹ پر بنتی ہے ۔ اس ٹیم نے جہلم میں کم و بیش کوئی پچاس سیاسی اکٹھ کئے ہوں گے جن میں احتجاجی کالیں ، دھرنے، میڈیا کے حق میں ، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف، مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف ریلیاں ، انسانی حقوق ، شہید ارشد شریف کی شہادت پر ، سانحہ وزیر آباد پر، لانگ مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے بے شمار کارنر میٹنگیں ، جلسے اور یونین کونسل سطح پر سیاسی سرگرمیاں شامل ہیں۔

اس ٹیم نے ایک سے زائد سیاسی محازوں پر حریفوں کا سامنا بھی کیا اور جہلم جلسے کو ناکام بنانے کے لیے پارٹی کے اندر کے چند منافقین اور کچھ خود ساختہ نظریاتیوں کے جلسے کو ناکام بنانے کے تمام حربوں کو ناکام بنا دیا۔ ٹیم فواد نے تمام چالوں کو ایسے سیمٹ کر جہلم جلسہ کو کامیاب بنایا کہ میرے سامنے شاہ محمود قریشی ، راجہ یاسر سرفراز، عامر ڈوگر، مسرت چیمہ سمیت دیگر مرکزی قائدین بھی تعریف کیے بناء نہ رہ سکے۔

دینہ جلسہ کی کامیابی کا سہرا بھی لدھڑ ہاؤس سے شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری کی سربراہی میں جو ریلی نکلی اسی کو جاتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب تک یہ ریلی پنڈال میں نہیں آئی پنڈال چھوٹا ہونے کے باوجود آدھے سے زیادہ خالی تھا پر جیسے ہی یہ ریلی فوق اور فراز کیساتھ آنے والے لوگوں کیساتھ داخل ہوئی جلسہ گاہ کا ماحول ہی تبدیل ہوگیا۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button