الیکشن کی گہما گہمی شروع، ضلع جہلم میں برادری ازم اور دھڑے بندی غالب

پورے ملک کی طرح جہلم میں بھی الیکشن کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے۔ امیدوار اپنے سپوٹرز کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں ۔ کل کے دشمن آج کے دوست اور کل کے دوست آج کے دشمن بن بیٹھے ہیں، جن پر کل الزام اور بہتان کی بوچھاڑ کرنے والی زبانیں آج انہی کے گن گاتی نظر آتی ہیں۔

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

نہ گور سکندر نہ ہے قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

ضلع جہلم کی سیاست میں ہمیشہ برادری ازم اور دھڑے بندی غالب رہی ہے اور ہمیشہ سے پارٹیوں کی اس کمزوری سے یہ ضلع اپنا واضح مقام حاصل کرتا رہا ہے ۔ اس الیکشن میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ آئیے ماضی کے الیکشن کا ایک سرسری سا جائزہ لیتے ہیں۔

2008 کے الیکشن میں این اے 62 جہلم ون کے کل ووٹرز 370090 تھے جبکہ ووٹ ڈالنے کی شرح 50 اعشاریہ 33 فیصد رہی۔ مسلم لیگ ن کے راجہ محمد صفدر ( راجہ برادری)92469 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شہباز حسین (جٹ برادری ) نے 61443 ووٹ جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری سہیل ظفر (گجر برادری) نے 20071 ووٹ حاصل کئے ۔

2013 کے الیکشن میں حلقہ این اے 62 جہلم ون کے کل ووٹرز 389451 جبکہ ووٹ ڈالنے کی شرح 55 اعشاریہ 69 رہی۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری خادم حسین (گجر برادری) نے 102022 ووٹ حاصل کئے، پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری محمد ثقلین (جٹ برادری ) نے 62572 ووٹ، مسلم لیگ ق کے امیدوار چوہدری فرخ الطاف (جٹ برادری) نے 36878 ووٹ، پیپلز پارٹی کے امیدوار راجہ محمد افضل خان (راجہ برادری) نے 8080 ووٹ اور جماعت اسلامی کے امیدوار راجہ محمد نواز کیانی (راجہ برادری) نے 2173 ووٹ حاصل کئے۔

2018 کے الیکشن میں حلقہ این اے 66 جہلم ون میں کل ووٹرز 541296 اور ووٹ ڈالنے کی شرح 51 اعشاریہ 94 فیصد رہی۔ پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری فرخ الطاف (جٹ برادری) نے 112356 ووٹ حاصل کئے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری ندیم خادم (گجر برادری) نے 92912 ووٹ، تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار چوہدری خالد تنویر (جٹ برادری) نے 29556 ووٹ، آزاد امیدوار چوہدری محمد ثقلین (جٹ برادری) 26072 ووٹ اور پی پی پی کے امیدوار چوہدری تسنیم ناصر (گجر برادری) نے 5023 ووٹ حاصل کئے ۔

2024 کے الیکشن میں حلقہ این اے 60 جہلم ون کے پرانے حلقہ سے 7 یونین کونسل ڈومیلی کا وہ علاقہ جو ٹاؤن کمیٹی ڈومیلی میں شامل نہیں یو سی ججیال، کوہالی، نگیال، اڈرانہ (تھانہ ڈومیلی)، یونین کونسل گڑھ محل اور یو سی کھوکھا (تھانہ دینہ) کے تین گاؤں کھوکھا، طمعہ عجائب اور کھوجکی کےعلاوہ باقی کو نکال کر حلقہ این اے 61 جہلم ٹو میں شامل کر دیا ہے۔

حلقہ این اے 60 جہلم ون میں کل ووٹرز 538897 ہے۔ اس دفعہ مسلم لیگ ن کے امیدوار بلال اظہر کیانی ( راجہ برادری ) معروف ہارٹ سرجن جنرل ( ر) اظہر کیانی کے بیٹے ہیں کو اس بار تمام بڑے مجموعی طور پر سیاسی دھڑوں کی حمایت حاصل ہے ۔

یاد رہے کہ 2018 کے الیکشن میں حلقہ پی پی 26 جہلم ٹو سے بلال اظہر کیانی کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں 111 ووٹ حاصل کئے تھے۔

ان کے مد مقابل تحریک لبیک پاکستان کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار چوہدری زاہد اختر (جٹ برادری)، چوہدری محمد ثقلین کے بیٹے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار چوہدری حسن عدیل (جٹ برادری)، پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری تسنیم ناصر (گجر برادری) اور جماعت اسلامی کے امیدوار سید ضیاء اللہ بخاری میدان میں اترے ہیں۔

اس وقت ہر امیدوار عوام کے دیرینہ علاقائی مسائل کو حل کرنے کے بلند و بانگ دعوے کر کے اپنی فتح کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button