جہلم کی انتخابی سیاست میں ہلچل مچ گئی، کارنر میٹنگز کا آغاز

جہلم کی انتخابی سیاست میں ہلچل مچ گئی ، کارنر میٹنگز کا آغاز ہو گیا، ہر پارٹی کو ٹکٹوں کی الاٹمنٹ میں اپنے امیدواروں کے دباؤ کا سامنا ،مختلف جماعتوں کے امیدوار اپنی اپنی لا بنگ میں مگن ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور پارلیمانی بورڈ سر جوڑے بیٹھے ہر حلقے میں اپنے اپنے امیدواروں کی مقبولیت ، صلاحیتوں اور کارکنوں سے ان کے ماضی اور حال میں برتا ؤکی رپورٹس اور پارٹیوں کی جانب سے کروائے گئے سروے کے تناظر میں جائزہ لینے میں اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔

ضلع جہلم کے دونوں حلقوںاین اے 60 ، این اے 61 کے امیدوار جن میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 سے سابق ممبر صوبائی اسمبلی مہر محمد فیاض،سابق ایم این اے چوہدری فرخ الطاف، سابق ایم پی اے چوہدری ندیم خادم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی کوارڈینٹر بلال اظہر کیانی شامل ہیں پاکستان مسلم لیگ( ن) کے امیدوار ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 61 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں میں چوہدری محمد عابد اشرف جوتانہ ، سابق ایم این اے راجہ مطلوب مہدی، سابق چیئرمین ضلع کونسل راجہ قاسم علی خان، ملک غلام مصطفی کنڈوال اور سابق ایم پی اے نوابزادہ سید شمس حیدر شامل ہیں۔

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 24 سے سابق ایم پی اے راجہ محمد اویس خالد، سابق ایم پی اے مہر محمد فیاض، غلام حسین کیانی جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 25 سے سابق ایم پی اے چودھری سعید اقبال، سابق ایم پی اے چودھری لال حسین،ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ ن ضلع جہلم چوہدری محمد بوٹا جاوید، سابق چیئرمین یونین کونسل راجہ کامران حیات اور سابق چیئرمین ایم سی جہلم مرزا راشد ندیم شامل ہیں پاکستان مسلم لیگ( ن) کے امیدوار ہیں۔

صوبائی حلقہ پی پی 26 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں میں سابق ایم پی اے حاجی ناصر محمود للِہ، کرنل (ر) زاہد حسین شیرازی، سابق تحصیل ناظم راجہ افتخار احمد شہزاد، سابق ایم پی اے ناصر جاوید چوہدری، سابق ایم پی اے نوابزادہ سید شمس حیدر،میجر (ر) چوہدری آصف محمود، محمد تیمور نوازشامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف ، صدر میاں محمد شہباز شریف کی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے ٹکٹوں کا فائنل فیصلہ کریں گے، اس وقت ٹکٹ کے حصول کی اعصاب شکن دوڑ جاری ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے این اے 60 میں چوہدری تسنیم ناصراقبال جبکہ این اے 61 میں سید حمزہ کرمانی امیدوار ہیں۔ جماعت اسلامی ، تحریک لبیک پاکستان، پاکستان عوامی تحریک ، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تاحال منظر سے غائب ہیں۔

موجودہ صورتحال کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن بمقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن ہے اگر مرکزی قیادت میرٹ پر ٹکٹ جاری نہیں کرتی تو مسلم لیگ ن کو دوسری سیاسی جماعتوں سے شکست دینے والا کوئی نہیں بلکہ ن لیگی رہنما یا آزاد امیدوار شکست دیں گے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button