جہلم

حکومتی دعوؤں کے باوجود جہلم شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں انرجی بحران ختم نہ ہو سکا

جہلم: حکومتی دعوؤں کے باوجود جہلم شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں انرجی بحران ختم نہ ہو سکا۔ شہر بھر میں سردیوں کی آمد سے قبل ہی سوئی گیس غائب رہنے لگی، جن اوقات میں گیس کی فراہمی کی جاتی ہے تو پریشر انتہائی کم ہوتا ہے، خواتین کو ناشتہ اور کھانا بنانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہوٹلوں کے سامنے کھانا اور روٹیاں خریدنے والوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں سردیوں کی آمد سے قبل ہی سوئی گیس غائب رہنے لگی اور جن اوقات میں گیس آتی ہے تو پریشر انتہائی کم ہوتا ہے جس سے خواتین کو گھروں میں ناشتہ اور کھانا بنانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔

اس حوالے سے گیس صارفین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کر دی جاتی ہے اور صارفین کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وفاقی حکومت بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرتی ہے جبکہ سردیوں کے موسم میں سوئی گیس کی اعلانیہ و غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کر دی جا تی ہے اس طرح سوئی گیس کے نرخوں میں من مرضی کا اضافہ کر لیا جاتا ہے۔

وفاقی حکومت گرمیوں میں نرخوں میں اضافے کے باوجود بجلی اور سردیوں میں نرخوں میں اضافے باوجود سوئی گیس فراہم نہیں کرتی جس کیوجہ سے صارفین کو سوختہ لکڑیاں خرید کا کھانا پکانے کی زحمت اٹھانا پڑی ہے۔

صارفین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ بجلی اور سوئی گیس کے محکموں کو صارفین کی بنیادی سہولیات مہیا کرنے اور من مانے نرخوں میں اضافہ کرنے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ صارفین کو پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button