جہلم کی 5 نشستوں پر ن لیگ اور آزاد امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع

جہلم: قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر ن لیگ اور آزاد امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلے۔ قومی اسمبلی کے لیے ن لیگ نے دونوں حلقوں میں نئے امیدوار میدان میں اتار دیے۔ٹکٹوں کی تقسیم نے جہلم کی سیاست کے تیور بدل ڈالے ۔ پی ٹی آئی نے یکے بعد دیگرے اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کا چناؤ کر لیا۔پی پی پی بھی جہلم کی سیاست میں حصہ بقدر جسہ کے مصداق اپناکردار ادا کرنے لگی ۔

جہلم میں انتخابی سرگرمیاں ماضی کی نسبت جاری سرد موسم کی طرح ٹھنڈی نظر آتی ہیں ۔تین ہفتوں سے بھی کم وقت میں کون اپنے حلقے سر کرنے میں کامیاب ہو گا اس کا فیصلہ آنے والے چند دنوں میں ہوگا ۔پاکستانی سیاست کی طرح جہلم میں بھی ووٹرز سے زیادہ امیدوار پریشان نظر آتے ہیں ۔عوام کی انتخابی مہم میں عدم دلچسپی سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کے اظہار کی مظہر بن رہی ہے۔

تفصیلات و سروے کے مطابق آمدہ عام انتخابات کے لیے جہلم کی قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر ن لیگ اور آزاد امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔2018 کے انتخابات میں جہلم میں کلین سویپ کرنے والی جماعت پی ٹی آئی حالیہ انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے محرومی کے بعد اپنے امیدواروں کے چناؤ میں بھی تذبذب کا شکا ر ہے۔

جہلم کے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں ن لیگ نے بھی نئے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جن میں حلقہ این اے 60میں سابق امیدوار چوہدری ندیم خادم کی جگہ بلال اظہر کیانی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

گزشتہ انتخابات میں اس حلقہ میں ن لیگی امیدوار چوہدری ندیم خادم کا مقابلہ پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری فرخ الطاف سے ہوا جس میں چوہدری فرخ الطاف نے چوہدری ندیم خادم کے حاصل کردہ(92912) ووٹ کے مقابلے میں(112356) ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔

اب کی بار حلقہ این اے 60میں ن لیگ نے چوہدری ندیم خادم کی جگہ بلال اظہر کیانی کو ٹکٹ جاری کر دیا جبکہ اس حلقہ میں گزشتہ انتخابات کے فاتح پی ٹی آئی کے ایم این اے چوہدری فرخ الطاف نے تحریک عدم اعتماد کے موقع پر پی ٹی آئی منحرف گروپ کا ساتھ دیکر بعد ازاں ن لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

بلال اظہر کیانی کو اس حلقہ کے صوبائی حلقہ پی پی 24 اور 25کے ن لیگی اور استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار کی بھی حمایت حاصل ہے۔ بلال اظہر کیانی کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے سابق ایم پی اے چوہدری ثقلین کے فرزند حسن علی ایڈووکیٹ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس حمایت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی حلقہ سے تعلق رکھنے والے لدھڑ خاندان کے سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین گروپ نے بھی پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کے مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ لدھڑ خاندان کے سابق ایم این اے چوہدری فرخ الطاف جنہوں نے اب کی بار اپنے آبائی حلقہ کو خیر باد کہتے ہوئے حلقہ این اے 61 میں ن لیگ کا ٹکٹ حاصل کیا ہے کا دھڑا بلال اظہر کیانی کا ساتھ دے رہا ہے۔

حلقہ این اے 60 کا اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی امیدوار کے مابین ہے جبکہ پی پی پی کے امیدوار سابق ایم پی اے چوہدری تسنیم ناصر اور آزاد امیدوار چوہدری زاہد حسین جنہیں تحریک لبیک پاکستان کی حمایت حاصل ہے اس انتخابی حلقے میں کسی ایک امیدوار کے لیے درد سر بن سکتے ہیں ۔

جہلم کے حلقہ این اے 61میں ن لیگ بمقابلہ ن لیگ ہے، اس حلقہ میں گزشتہ انتخابات میں سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے ن لیگی امیدوارنوابزادہ مطلوب مہدی کے حاصل کردہ ووٹ (82475) کے مقابلہ میں (93102) ووٹ حاصل کر کے کئی دہائیوں بعد اس حلقہ میں نوابزادہ خاندان سے فتح چھینی تھی۔

اب کی بار اس حلقہ میں چوہدری فواد حسین بطور انتخابی امیدوار نااہل قرار دیے جا چکے ہیں، عملاً اس حلقہ سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے اس حلقہ میں چوہدری فوادحسین کے کزن چوہدری فرخ الطاف کو جو پی ٹی آئی منحرفین میں شامل تھے کو اپنے سابقہ امیدوار کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

اس حلقہ میں دہائیوں اپنی سیاست کی ساکھ قائم رکھنے والے نوابزادہ گروپ نے قیادت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے آزاد حیثیت میں سابق ایم اے اور نوابزادہ گروپ کے سالار نوابزادہ اقبال مہدی (مرحوم) کے بیٹے بیرسٹر نوابزادہ طالب مہدی جو سابق ایم این اے نوابزادہ مطلوب مہدی کے چھوٹے بھائی ہیں کو میدان میں اتارا ہے ۔

اس انتخابی حلقہ میں جہلم کی سیاست کے دو اہم گھرانوں لدھڑ گروپ اور نوابزادہ گروپ کے مابین نہ صرف انتخابی حلقہ بلکہ اپنی خاندانی سیاست اور ساکھ بچاؤ کا بھی مقابلہ ہے، اس انتخابی حلقہ میں کامیابی و ناکامی کسی بھی امیدوار کے لیے سیاسی موت سے کم نہیں ہو گی۔

حلقہ این اے 61 میں چوہدری فرخ الطاف بظاہر اس لیے وارد ہوئے کہ گزشتہ انتخابات میں چوہدری فواد حسین کامیاب ہو چکے ہیں مگر نوابزادہ گروپ کا ن لیگی قیادت کے فیصلے سے انحراف مستقبل کی سیاست تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس حلقہ میں پی پی پی نے حمزہ کرمانی کو جبکہ پی ٹی آئی نے کرنل (ر) شوکت مرزا کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ ٹی ایل پی بھی اس حلقہ میں حصہ بقدر جسہ کے مصداق اپنا کردار ادا کر ہے ہیں۔

جہلم کی سیاست کے دونوں قومی اسمبلی کے حلقوں میں ابھی تک عوامی دلچسپی نظر نہیں آ رہی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیدواروں کی امیدوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ عوام کی دلچسپی کس حد تک کس جماعت اور امیدوار سے ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button