للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے منصوبہ؛ 50 کروڑ روپے کے فنڈز جاری، تعمیراتی کام شروع

پنڈدادنخان: للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے کے فنڈز جاری، روڈ کاکام شروع ہوگیا، مختلف سیاست دان اپنی اپنی دوکان داری چمکانے میں مصروف، فنڈز جاری ہونے کا کریڈٹ پیر محمد انور قریشی اور ورکنگ کمیٹی للِہ جہلم روڈ کے نمائندگان کو جاتا ہے جنہوں نے عوام کے ساتھ ملکر تحصیل پنڈدادنخان میں منظم طریقے سے پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سابق دور حکومت میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے للِہ جہلم ڈیول کیرج وے روڈ کی تعمیر کا کام زور وشور سے شروع کروایا مگر افسوس کہ فواد چوہدری نے پورے فنڈز ریلیز نہ کروائے اورپی ڈی ایم کی حکومت آ تے ہی فنڈ ز کی کمی کی وجہ سے چلتا منصوبہ روک دیا گیا۔

اس کی وجہ سے تحصیل پنڈدادنخان کی عوام ذلیل و خوار ہو گئی اور مختلف سیاسی نمائندوں کی بھی نگران حکومت کی اعلی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی فوٹو سیشن بھی ہوئے اور بڑے بڑے دعوے بھی کیے گئے مگر افسوس کہ للِہ جہلم ڈیول کیرج وے منصوبے پر نہ فنڈز جاری ہوئے اور نہ ہی دوبارہ کام شروع ہوا۔

پیر محمد انور قریشی کی سربراہی اور مفتی بشیر کرم کی قیادت میں ورکنگ کمیٹی للِہ جہلم روڈ کے نمائندگان پر کمیٹی تشکیل دی گئی اور تحصیل بھر میں ہر گاؤں میں مفتی بشیر کرم کی قیادت میں سیاسی سماجی ودیگر تمام مکتب وفکر کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں گئیں اور ہر جگہ احتجاج کیا گیا۔

پھر پیر محمد انور قریشی کی قیادت میں للِہ چوک میں اور کندوال تا جلالپور شریف تک پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی اور تحصیل پنڈدادنخان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اتنی بڑی اور بھرپور اتفاق رائے سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا جس میں تحصیل بھر سے سیاسی، سماجی، صحافی برادری، وکلاء و دیگر تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی،

جلد ہی للِہ انٹرچینج کے مقام پر موٹروے کو بند کرنے پر غور کیا گیا جس پر نگران حکومت کے اعلی حکام نے للِہ جہلم ڈیول کیرج وے منصوبے کے لیے50کروڑ روپے فنڈ ریلیز کروائے۔

اس حوالے سے اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی پارٹی کے نمائندوں نے اپنی اپنی سیاست چمکانی شروع کر دی کہ فنڈز ہم نے جاری کروائے مگر افسوس کہ 50کروڑ روپے فنڈ جاری ہونا کا کریڈٹ صرف اور صرف پیر محمد انور قریشی اور ورکنگ کمیٹی للِہ جہلم روڈ کے نمائندگان کو جاتا ہے جنھوں نے منظم طریقے سے عوام کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی اور عوامی منصوبے پر آواز بلند کی۔

اہل علاقہ نے کہا کہ خدا را سیاست دان اپنی اپنی دوکانداری نہ چمکائیں، اگر سیاست دانوں کو اتنی دلچسپی ہوتی تو چلتے منصوبے پر کام کیوں بند ہوتا اور تحصیل بھر کی عوام کیوں ذلیل و خوار ہوتی، اب تحصیل پنڈدادنخان کی عوام پوری طرح بیدار ہو چکی ہے، سیاست دانوں کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button