جہلماہم خبریں

ضلع جہلم کے سیاسی افق پر غیر متوقع خاموشی

جہلم کے سیاسی افق پر غیر متوقع خاموشی، اگر چہ اس ضلع میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان عوامی تحریک، تحریک لبیک پاکستان، مرکزی مسلم لیگ، مسلم لیگ ق بھی شامل ہے، تاہم گروپ بندی کے حوالے سے موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے چوہدری فواد حسین کا سیاسی گروپ اور مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے چوہدری ندیم خادم کی زیر قیادت مضبوط گروپ موجود ہیں۔

مقابلے کی حیثیت سے دونوں بڑی جماعتوں کے گروپ پوری طرح متحرک دکھائی دیتے ہیں، چوہدری فواد حسین مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت کے عرصہ میں بطور وفاقی وزیر کے منصب پر فائز رہے جبکہ اب پی ٹی آئی کی مرکز میں حکومت تو نہ ہے، تاہم پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کے ہمراہ پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی اور کابینہ کے وزیر اپنی پوری اکثریت اور طاقت کے ساتھ موجود ہیں۔

ملک میں اس وقت پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان جلد از جلد عام انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنے مطالبے کو عملی شکل دلوانے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگار ہے ہیں جبکہ مرکز میں قائم حکومت میں میاں محمد شہباز شریف کی حکومت پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو یہ کہہ کر تھوڑا حوصلہ رکھیں، عمران خان اور ان کے قریبی رفقاء جلد از جلد انتخابات کے انعقاد کے شدید حامی ہیں۔

مقابلے میں13 جماعتی اتحاد میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں مولانا فضل الرحمٰن اور آصف علی زرداری کے ساتھ ساتھ چوہدری شجاعت حسین سے بھی برابر مشاورت کے حوالے سے رابطے میں ہیں اور سیاسی مقابلہ بازی کی فضا میں اعصاب شکن سیاسی جنگ کا سلسلہ عروج پر ہے۔

عمران خان نے جمعہ کو پنجاب کی حکومت اور کے پی کے کی حکومت سے مکمل علیحدگی اور اسمبلیوں کے خاتمے کے اعلان کو حتمی تاریخ قرار دے رکھا تھا تا ہم گزشتہ رات گورنر پنجاب نے پنجاب حکومت کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جسے بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے بحال کر دیا۔

عمران خان کے سیاسی مخالفین کا یہ اصرار ہے کہ عمران خان ماضی کی طرح ایک بار اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کیونکہ عسکری قیادت کی مخالفت کے بیانیے سے چوہد ری پرویز الٰہی ،عمران خان کے ساتھ 100 فیصد متفق دکھائی نہیں دیتے۔ اس حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی، تاہم ضلع جہلم کے سیاسی افق پر جو ماضی کے عرصہ میں تیزی دکھائی دی جاتی تھی، اس میں ابھی برق رفتاری پیدا ہوتی دکھائی نہیں دے رہی،چوہدری فواد حسین انتہائی سنجیدہ طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حلقہ تحصیل سوہاوہ اور دینہ سے منتخب ممبر پنجاب اسمبلی راجہ یاور کمال جو پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے جبکہ جہلم حلقہ پی پی 26 سے چوہدری ظفراقبال جنہوں نے ترقیاتی کاموں کے جال بچھادیئے ہیں، اپنا ایک الگ مقام حاصل کر لیا ہے۔

دونوں ممبران صوبائی اسمبلی پارٹی کی اعلیٰ قیادت چیئرمین عمران خان اور دیگر قائدین کی ہدایات کے مطابق اپنے اپنے حلقوں میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو الگ سے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ن لیگ کی قیادت بھی مرکزی قیادت کے اشاروں کے انتظار میں صبر و حوصلے کی تصویر بنی ہوئی ہے،جبکہ باقی جماعتیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button