عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا، مریم کی خواہش پوری کی گئی؟

سائفر کیس میں آج سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس دس قید کی سزا سنائی گئی، اعتراضات کے باوجود جیل ٹرائل ہوا، الیکشن سے قبل اجلت میں فیصلہ دیاگیا۔

عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کو گواہان پر جرح نہیں کرنے دی گئی، جج صاحب نے جرح کے لیے مرضی کے وکلاء مقرر کیے۔ سابق وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے وکلاء کو جیل کے باہر روک کر جرح مکمل کرلی گئی، اتنے تیز ٹرائل اگر ماتحت عدالتوں میں عام عوام کے کیسز میں ہوں، انکو انصاف ملے تو شاید عدلیہ کا وقار بھی بلند ہو لیکن عدلیہ ہمیشہ پسند ناپسند اور رشوت کے بل بوتے پر فیصلے کرتی ہے۔

سائفر کیس میں الیکشن سے قبل عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا دیکر شاید مریم نواز کی ایک اور خواہش پوری کی گئی ہے۔ مریم نواز لیول پلئینگ فیلڈ مانگتی تھیں وہ چاہتی تھیں جس طرح الیکشن سے قبل نواز شریف کو سزا دی گئی تھی اس طرح عمران خان کو بھی سزا دی جائے۔ اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کے ذریعے مریم نواز کی خواہش کو پورا کیا، اب آٹھ فروری کو جعلی الیکشن کا ڈرامہ رچایا جائے گا اور پاکستان مسلم لیگ(ن)کو 2016جیسا ماحول اور گراؤنڈ مہیا کی جائے گی۔

آج جج ابوالحسنات نے عجلت بازی میں جو فیصلہ سنایا ہے اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کے دوران یہ برقرار نہیں رہے گا، یہ فیصلہ نہیں پوری دنیا میں ایک دفعہ پھر عدلیہ کا چہرا بے نقاب ہوا ہے۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے ثابت کیا وہ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ، فیصلے کا تو سب کو پہلے سے علم تھالیکن کپتان اور وائس کپتان نے جیل کے اندر سے بھی نہایت ذہانت ،بہادری اور جرأت منفی سے عدلیہ،اسٹیبلشمنٹ اور شریف خاندان کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا۔

سزا تو ختم ہو جائے گی لیکن کیا اس فیصلے سےسیاسی عدم استحکام ختم ہو پائیگا،ملکی معیشت بہتر ہوگی، غریب عوام کو روزگار ملے گا؟ مستقبل قریب میں ایسا ہوتاہوا دکھائی نہیں دے رہا اسکے لیے پاکستانی عوام کو جہدوجہد کرنی ہوگی، حقیقی آزادی کی جہدوجہد۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button