جہلم

سال نو کی تیاریاں؛ بازاروں میں رش بڑھنے لگا، تجاوزات کی وجہ سے شہریوں کا پیدل چلنا محال

جہلم: نیوائیر کو منانے کے لئے بازاروں میں خریداری کے لئے آنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا رش بڑھنے لگا، تجاوزات کی وجہ سے بازاروں میں پیدل چلنا محال ہوکر رہ گیا جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک کی روانی کے لئے عملاً کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔

تفصیلات کے مطابق شہر کے بازاروں میں تجاوزات کو ختم کرنے کے دعوے دم توڑ گئے، تجاوزات کی بھرمار سے بازار تنگ و تاریک گلیوں میں تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں ،ٹریفک کے مسائل میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیاہے۔

شہر کے بازاروں جن میں نیابازار، تحصیل روڈ، چوک گنبد والی مسجد، مین بازار، دلہن بازار، کناری بازار پر تجاوزات کی بھرمار نے گزرنے والے صارفین کے مسائل میں اضافہ کر دیا طویل دورانیے تک ٹریفک جام رہتی ہے، رہی سہی کسر ریڑھی بانوں ، چنگ چی رکشوں ، لوڈر رکشوں ، کاروں نے پوری کردی ہے بازاروں میں دکانداروں نے اپنی دکانداری چمکانے کیلئے دکانوں کے باہر 8/10 فٹ تک دکانیں پھیلا رکھی ہیں جس سے بازار مزید تنگ ہو گئے ہیں۔

شہر کے اندر ریڑھی بانوں اور رکشے والوں نے بھی پیدل چلنے والوں کے لئے مشکلات کھڑی کر رکھی ہیں، محمدی چوک ، کچہری چوک ، روہتاس روڈ، جادہ چونگی پر واقع سکول و کالجز کے آگے ریڑھی بان اور چھابڑی والوں نے مستقل بنیادوں پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

رش کی شدت کی وجہ سے صبح سکول وکالجز لگنے اور سہ پہر چھٹی کے وقت طلباء و طالبات کا پیدل گزرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ، اسی طرح کی صورت حال باقی بازاروں کی ہے ،میونسپل کمیٹی کی انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار تجاوزات کو ختم کرنے کے دعوے کئے گئے لیکن عملاً کوئی خاص کارروائی نظر نہیں آئی۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ دکانداروں کو اپنی دکان کے باہر 2/3 فٹ تک سامان رکھنے کا پابند بنایا جائے اور مزدوری کرنے والے ریڑھی بانوں کے لئے شہر میں موجودرمضان بازار میں ریڑھیاں کھڑی کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ محنت کشوں کے چولہے بھی جلتے رہیں اس کے ساتھ ساتھ سول لائن روڈ، تحصیل روڈ، نیا بازار میں چنگ چی رکشوں ،موٹر سائیکلیں لوڈر رکشے کھڑے کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔

ڈی پی او اور قائم مقام ڈی ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ شہر میں رکشہ اسٹینڈز اور دیگر پبلک مقامات پر تجاوزات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے تاکہ حادثات کی روک تھام پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ معمول کے مطابق ٹریفک کو رواں دواں رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button