جہلم میں ای سگریٹ کی سرعام فروخت، ای سگریٹ کے استعمال میں نابالغوں کی تعداد زیادہ

جہلم شہر کے مصروف ترین بازار، کاروباری مراکز میں نسل نو کو ویپ جیسے موذی نشے میں مبتلا کرنے کے لیے مختلف فلیور کھلے عام فروخت کیے جانے لگے، کچے ذہن کے طلبا وطالبات بھی ویپ کا استعمال کرنا فیشن بنا لیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاثر یکسر غلط ہے کہ ای سگریٹ اور ویپ کا استعمال دیگر سگریٹس کی طرح نقصان دہ نہیں۔ ای سگریٹ کی مارکیٹنگ ایسے کی جاتی ہے جیسے اس کا کوئی نقصان نہیں یا تمباکو کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جب بھی تمباکونوشی کی بات آتی ہے تو ای سگریٹ یا ویپ کا نام خود بہ خود زبان پر آ جاتا ہے۔

ان کے کا کہنا تھا کہ اصل بات یہ ہے کہ ای سگریٹ میں جو مواد استعمال ہوتا ہے وہ نکوٹین ہے۔ ای سگریٹ کی مارکیٹنگ عام سگریٹ کا متبادل ہے جو اس طرح سے کی جاتی ہے کہ اس سے سگریٹ کی لت چھوٹ سکتی ہے جبکہ ا یسا ہرگز نہیں۔ کسی بھی قسم کا نشہ چھوڑنے کے لیے اپنے ہیلتھ پروفیشنل سے مشورہ کر کے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button