جہلم

میونسپل کمیٹی جہلم کو ریونیو کی مد میں ماہانہ لاکھوں کروڑوں کی پھکی دی جانے لگی

جہلم: میونسپل کمیٹی کاشعبہ نقشہ بلڈنگ برانچ ٹھیکے پر، غیر متعلقہ شخص کماؤ پتر، ذمہ داران کی موجیں، میونسپل کمیٹی کو ریونیو کی مد میں ماہانہ لاکھوں کروڑوں کی پھکی دی جانے لگی، میونسپل آفیسر پلاننگ غیر فعال ،ایڈمنسٹریٹر ،چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سمیت متعلقہ افسران خاموش تماشائی، شہری نے مالی اور انتظامی بدعنوانیوں پر ڈی جی اینٹی کرپشن سے رجوع کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی کا شعبہ بلڈنگ و نقشہ برانچ متعلقہ ذمہ داران نے ٹھیکے پر دے رکھا ہے، وقاص یونس نامی سینٹری سپروائزر جو کہ انجینئرنگ کلرک کی خدمات سر انجام دے رہا ہے نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بلڈنگ انسپکٹر کے اختیارات بھی سنبھال کر استعمال کرنے شروع کررکھے ہیں۔

اس طرح گھریلو اور کمرشل نئی عمارتیں تعمیر کرنے والے مالکان کی سادگی اور لاعلمی کافائدہ اٹھاتے ہوئے عمارتوں کی تعمیر سے قبل مالی معاملات طے کر کے سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی رقم سرکاری بینک اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی بجائے خودوصول کرلیتا ھے اس کے بعدمتعلقہ ذمہ داران کے ساتھ ساز باز کرکے حصہ بقدر جثہ ْ تقسیم کرلیا جاتا ہے۔

انجینئرنگ کلرک وقاص یونس جو کہ میونسپل کمیٹی کے شعبہ بلڈنگ و نقشہ برانچ کا کماؤ پتر کے طور پر اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، وقاص یونس کو متعلقہ افسران کی مکمل پشت پناہی و حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے میونسپل کمیٹی کے اندر یہ مکروہ دھندہ دیدہ دلیری کے ساتھ جاری ہے۔

انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وقاص یونس جس کا بلڈنگ و نقشہ برانچ سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں، وقاص یونس نامی سینٹری سپروائزر جو کہ انجینئرنگ کلرک کی خدمات سر انجام دے رہا ہے نے میونسپل کمیٹی کی حدود میں نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں ، دکانوں، پلازوںکے نقشوں کو منظور کروانے کے ٹھیکے لے رکھے ہیں اور نقشہ منظوری سے قبل ہی گھریلو اور کمرشل عمارتوں کی تعمیر کا کام شروع کروا دیتا ہے جس سے میونسپل کمیٹی کو ماہانہ لا کھوں کروڑوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

شہری سماجی رفاعی فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلی پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب ،سیکرٹری بلدیات سے میونسپل کمیٹی کے شعبہ بلڈنگ میں ہونے والی مالی وانتظامی بدعنوانیوں کا نوٹس لینے اور مزکورہ اہلکار کے خلاف فرض شناس ایماندار افسران سے انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button