چارجنگ کی جھنجٹ ختم، چین میں 50 سال تک چلنے والی نیوکلیئر بیٹری ایجاد

چین میں اب موبائل فونز، ڈرون کیمروں، انسانی جسم میں پیس میکر، مصنوعی دل اور دیگر پورٹیبل الیکٹرک آلات کے لیے 50 سال تک چارج رہنے والی’ نیوکلیئر بیٹری‘ تیار کر لی ہے۔

چین کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ’بیٹا وولٹ‘ نے ایک ایسی نئی نیوکلیئر بیٹری متعارف کرائی ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بغیر چارج کیے 50سال تک چل سکتی ہے اور کسی بھی چیز کو متواتر توانائی فراہم کر سکتی ہے۔

’بیٹا وولٹ‘نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نئی نیوکلیئر بیٹری سے توانائی کی اس نئی جدت طرازی سے چین کو مصنوعی ذہانت کے انقلابی دور میں نمایاں برتری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

’بیٹا وولٹ‘ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی جوہری بیٹری ہے جس میں 63 جوہری آئسوٹوپس کو ایک سکے کی طرز پر چھوٹے ماڈیول میں رکھ کر جوہری توانائی کو محفوظ کیا گیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ بیٹری کی آزمائش جاری ہے اور بہت جلد اسے بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال جیسے فون اور ڈرون کے لیے تیار کیا جائے گا۔

’بیٹا وولٹ‘ کی جانب سے اپنی نوعیت کی پہلی نیوکلیئر بیٹری 100 مائیکرو واٹ بجلی اور 3 وی کی وولٹیج فراہم کرسکتی ہے جبکہ اس کی پیمائش 15×15×5 مکعب ملی میٹر ہے۔ کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ 2025 تک 1 واٹ کی طاقت کے ساتھ بیٹری تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ چین کے 14 ویں 5 سالہ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد 2025 تک ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ امریکا اور یورپ کے دیگر تحقیقی ادارے بھی اس ٹیکنالوجی کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی چارجرز یا پورٹیبل پاور بینکوں کی ضرورت کو مکمل طور پر ختم کرکے الیکٹرانکس میں انقلاب برپا کرسکتی ہے، اس سے ایسے آلات بھی تیار کیے جا سکیں گے جو مسلسل چلتے رہیں گے اور جن کی بیٹریاں صلاحیت اور عمر کے لحاظ سے خراب نہیں ہوں گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’بیٹا وولٹ‘ کی تیار کردہ جوہری توانائی کی بیٹری کسی بھی نیوکلیئر تابکاری سے محفوظ ہو گی، اس سے باہر کوئی تابکاری پھیلنے والی نہیں ہے اور انسانی جسم میں پیس میکر، مصنوعی دل اور کوکلیز جیسے طبی آلات میں بھی استعمال کے لیے موزوں ہے۔

کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ جوہری توانائی کی بیٹریاں ماحول دوست بھی ہیں۔ ان کے چارج کی مدت ختم ہونے کے بعد 63 آئسوٹوپ تانبے کے ایک مستحکم آئسوٹوپ میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جو غیر تابکار ہے اور ماحول میں اس سے کسی خطرہ یا آلودگی کا امکان بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button