اسرائیلی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی پر دنیا کی خاموشی مجرمانہ حرکت ہے، حافظ عبدالحمید عامر

جہلم: اسرائیل کی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی پر دنیا کی خاموشی قبیح اور مجرمانہ حرکت ہے۔

ان خیالات کے اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے خطبہ جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک وحشی درندہ بن کر انسانیت کی صف سے نکل چکا ہے۔ وہ مغرب جو لوگوں کو احترام انسانیت اور حقوق انسانیت کے درس دیتا تھا، اس کا اصل چہرہ اب دنیا کے سامنے واضح ہو رہا ہے کہ یہ لوگ کس قدر اسلام اور مسلمانوں سے تعصب اور نفرت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کس قدر یہ لوگ درندگی کا شکار ہیں؟ اور یہ لوگ حقوق انسانیت کی دھجیاں بکھیرنے والے ہیں۔ اب دہشت گردی کا نعرہ الاپنے والے خود بدترین دہشت گرد بن کرچکے ہیں اور امریکہ اس دہشت گردی اور ظلم و ستم کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے۔ اسرائیل کو روکنے کی بجائے اس کا حمایتی بن رہا ہے اور دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ یہ ظالم اور درندہ صفت لوگ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا بڑی بے دردی سے قتل عام کر رہے ہیں۔

حافظ عبدالحمید عامر نے مذمتی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی مظلومیت اور اسرائیلی مظالم پر مسلم دنیا کی خاموشی بھی انتہائی افسردہ امر ہے،بلکہ اسلامی غیرت و حمیت کا تو جنازہ ہی نکل چکا ہے۔ وہ مسلم امت جسے درس دیا گیا ہے کہ وہ ایک جسم کی مانند ہیں، وہی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ 6 دسمبر کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں مجلس اتحاد کے زیر اہتمام ہونے والی قومی کانفرنس مسلم دنیا کو بیدار کرنے کی ایک مضبوط اور موؤثر کوشش تھی جس میں تمام مسالک کے جید علمائے کرام، سیاسی رہنماوؤں اور صحافتی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور قوم کے سامنے ایک متفقہ اعلامیہ پیش کیا کہ اسرائیل کے اس ظلم کے خلاف ہم اپنی آواز کو لازمی اٹھاتے رہیں گے اور دنیا کو اس پر مجبور کر دیں گے کہ وہ بھی اسرائیلی مظالم کو روکے گی اور دنیا کے سامنے مسلمان ایک امت ہونے کا ثبوت دیں گے۔

حافظ عبدالحمید عامر نے مرکزی جامع مسجد اہل حدیث چوک اہل حدیث میں مذمتی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت وقت اور دفاعی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظلم کو رکوانے میں اپنا بھرپور کر دار ادا کیا جائے اور اس پر خاموش تماشائی نہ بنا جائے اور اس مسئلہ میں پورے ملک کے عوام یک آواز ہیں۔ یہ قرار داد جہلم کی دیگر مساجدمیں بھی متفقہ طور پر منظور ہوئی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button