100سال میں پہلی بار؛ ایل سلواڈور میں کوئی رہنما مسلسل دوسری بار صدر منتخب

سان سلواڈور: صدر نائیب بوکیل صدارتی الیکشن میں شاندار کامیابی حاصل کرکے مسلسل دوسری بار صدر منتخب ہوکر ایل سلواڈور کی 100 سالہ تاریخ کا ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایل سلواڈور کے صدر نائیب بوکیل جو دنیا کے نرم ترین ڈکٹیٹر کا دعویٰ کرتے ہیں نے 85 فیصد ووٹس حاصل کرکے دوسری بار بھی صداتی انتخاب کے لیے میدان مار لیا۔

اس طرح 42 سالہ صدر نائیب بوکیل 100 سال میں ایل سلواڈور کے مسلسل دوسری بار صدر بننے والے پہلے شخص بن گئے۔ وہ یکم جون کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔

ایل سلواڈور کے الیکشن کمیشن نے تاحال صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم صدر نائیب بوکیل نے نہ صرف اپنی فتح کا اعلان کر دیا بلکہ صدارتی محل پر جشن منایا گیا جہاں ہزاروں شہری مبارک باد دینے جمع ہوئے تھے۔

سلواڈور کے صدر نائیب بوکیل نے اپنے پچھلے دور حکومت میں جرائم پیشہ گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن اور ملک میں سیکیورٹی معاملات درست کرکے امن و امان کو بحال کرکے عوام میں خوب پذیرائی حاصل کی تھی جس کا فائدہ انھیں الیکشن میں ہوا۔

صدر نائیب بوکیل کی جماعت ’’نیو آئیڈیاز پارٹی‘‘ نے جمہوریت کے خاتمے کے خدشات کے باوجود قانون ساز اسمبلی کی 68 میں سے 58 نشتیں حاصل کرلیں جب کہ اپوزیشن کو صرف 7 فیصد ووٹ ملے۔

نائیب بوکیل نے اپنے دور حکومت میں سیکورٹی حکمت عملی کے باعث شہری آزادی کو معطل کرکے 75 ہزار سے زائد شہریوں کو بغیر کسی الزام کے گرفتار کیا گیا جس سے ملک میں قتل کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔

اپنی کامیابی کے بعد انھوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی ملک میں کینسر کی طرح پھیلے گینگز پر قابو پا چکے ہیں اور اب ہمیں صرف جلد از جلد صحت یاب ہونا ہے اور ایسا توانا بننا ہے جیسا کہ ہم بننا چاہتے تھے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button