موسم سرما کی تعطیلات کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے دفاتر کھلے رکھنے کے احکامات جاری

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے موسم سرما کی تعطیلات کےدوران نجی تعلیمی اداروں کے دفاتر کھلے رکھنے کے احکامات جاری کردیے، جسٹس جواد حسن نے احکامات جاری کیے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس جواد حسن نے موسم سرما کی تعطیلات کےدوران نجی تعلیمی اداروں کے دفاتر کھلے رکھنے کے احکامات جاری کیے۔

ضلع جہلم سمیت پنجاب بھر میں موسم سرما کی تعطیلات 18 دسمبر سے یکم جنوری تک دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا، ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سرگرمیوں کے لیے سکولز مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے سنگل فیس کے ساتھ داخلہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 22 دسمبر، ڈبل فیس کے ساتھ 5 جنوری اور 3 گنا فیس کے ساتھ 13 جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی۔

صدر ایپسما کے مطابق تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے بچوں کے داخلے اور فارم کی تصدیق کا عمل متاثر ہورہا تھا۔

نجی اسکول کے طالب علم ابرہیم کے والد نے اس نوٹیفکیشن کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، درخواست میں سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب، سی ای او ایجوکیشن اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو فریق بنایا گیا جبکہ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کو بھی فریق بنایا گیا۔

ایڈووکیٹ وقار احمد نے دلائل دیے اور پنجاب تعلیمی بورڈز کے شیڈول کی طرف توجہ دلائی۔

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے اسکولز مالکان کو نان ٹیچنگ سرگرمیوں کی اجازت دے دی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ججز کا ڈیوٹی روسٹرم جاری کر دیا

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے موسم سرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کا ججز روسٹرم جاری کر دیا۔

موسم سرما کی تعطیلات کے دوران پہلے ہفتے 16 ججز بطور سنگل بینچ جبکہ 7 ڈویژن بینچ کیس کی سماعت کریں گے روسٹر کا اطلاق 26 دسمبر منگل سے ہوگا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کی حتمی منظوری کے بعد جاری روسٹرم کے مطابق چیف جسٹس اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل بینچ تمام نوعیت کے کیسز کی سماعت کرے گا۔

جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بینچ فوجداری کیسز کی سماعت کرے گا جبکہ جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس راحیل شیخ پر مشتمل بینچ فوجداری کی سماعت کرے گا۔

جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس فیصل زمان خان پر مشتمل بینچ سول کیسز کی سماعت کرے گا جبکہ جسٹس شہباز علی رضوی اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بینچ فوجداری کی سماعت کرے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button