دینہ

پچھلے 75 سال سے وطن عزیز پر تجربات ہو رہے ہیں۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ آج بھی ازسرنو تعمیرکی بات ہو رہی ہے لیکن پھر وہی فرسودہ نظام کے تحت تعمیر کی جا رہی ہے۔ہمیں وہ نظام آزمانے کی ضرورت ہے جو اللہ کریم نے ہمیں عطا فرمایا ہے اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی میں اللہ کریم نے دین و دنیا کی کامیابی کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی نظام کے تحت ہر خاص و عام وطن عزیز میں بہاریں دیکھے گا اور وطن عزیز میں تبدیلی آئے گی۔ ان شاء اللہ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعمال ثابت کریں ہمارے معاملات ثابت کریں کہ ہم حق پر ہیں ہماری زندگی قرآن کریم کی ترجمانی کرے۔ کیا ہماری زندگی اس بات کی شہادت دے رہی ہے کیا ہمارے معاشرے کے حالات اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ ہم حق پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ؓ وہ ہستیاں ہیں جن کو نبی کریم ﷺ کی معیت نصیب ہوئی۔آپ ﷺ نے صحابہ کی جماعت کی تربیت فرمائی۔صحابہ کرام ؓ کے بارے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں کسی ایک صحابی کا بھی دامن تھام لوگے تو ہدایت پا لو گے۔آج اگر کوئی صحابہ پر اعتراض کرتا ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسمان کی طرف تھوکے گا تو وہ تھوک اس پر ہی آکر گرے گی۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ آج لوگ قرآن کریم کی تفسیر اپنی پسند سے کرنا چاہتے ہیں اسی لیے گمراہی کا شکار ہیں اگر اُس تفسیر پر عمل کیا جائے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی اور صحابہ نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اس پر عمل کیا آپ ﷺ نے تصدیق فرمائی تو آج کسی بھی طرح کا کوئی فرقہ نہ ہوتا نہ کوئی کسی پر اعتراض کرتا اعتراض تب پیدا ہوتے ہیں جب ہم اپنی پسند کو درمیان میں لے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا کلام مخلوق کی تربیت کے لیے ہے راہنمائی کے لیے ہے ایک ایک پہلو میں مخلوق کی بھلائی ہے اسے ذاتی لالچ کے لیے تبدیل کرنا، عارضی اور فانی دنیا کے فائدے اُٹھانا، اس زندگی نے تو گزر جانا ہے لیکن وہ بد اعمال جو ہم نے اختیار کیے اس لالچ کی وجہ سے وہ تو ساتھ جائیں گے اس عارضی زندگی کے لیے ہمیشہ کی زندگی کا نقصان کرنا کتنا بڑا گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ کریم تو ہماری بخشش چاہتے تھے لیکن ہم نے جہنم خرید لی کتنی بڑی جرات کی بات ہے کہ بندہ جہنم کے لیے دلیری دکھائے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button