عام انتخابات کے اعلان کے بعد حلقہ پی پی 24 میں بھی طبل جنگ بج گیا

سوہاوہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا جس سے سیاسی گہما گہمی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔

حلقہ پی پی 24 کے لیے اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ فضائل مدثر ریٹرننگ آفیسر تعینات جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر (لیبر) تنویر ہمایوں اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر سہیل رضا بطور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران خدمات انجام دیں گے۔

امیدواروں کے لیے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کے دفتر سے دستیاب تھی جس کی فیس سو روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کی آخری تاریخ 19 دسمبر شام چار بجے تک تھی۔

کاغذات نامزدگی 20 دسمبر سے 22 دسمبر تک دفتری اوقات میں جمع کرائے جا سکیں گے۔ قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے 30 ہزار جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے 20 ہزار فیس رکھی گئی ہے جو کہ نا قابل واپسی ہو گی۔ امیدوار یہ فیس متعلقہ ریٹرننگ آفیسر یا بینک میں جمع کرا سکیں گے۔ امیدوار کے لیے پاکستان کا شہری ہونا لازم ہے جبکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ تک کم سے کم عمر 25 سال ہونا لازم ہے۔

کاغذات نامزدگی جمع کرنے والے امیدواروں کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدوار اپنا قومی شناختی کارڈ ، ووٹر سرٹیفکیٹ جو کہ الیکشن کمیشن کے دفتر سے جاری کیا جاتا ہے ساتھ لگانا ضروری ہے۔امیدوار گزشتہ تین سالوں سے ٹیکس گزار ہونا لازم ہے جبکہ امیدوار اپنے پاسپورٹ کی کاپی بھی جمع کرائیں گے۔ قومی اسمبلی کے امیدوار کیلئے پاکستان کے کسی بھی حلقہ کا ووٹر ہونا چاہیے جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے صوبہ کے کسی بھی حلقہ کا ووٹر ہو سکتا ہے۔

امیدوار اپنے تمام اثاثہ جات کی تفصیل جمع کرانے کے پابند ہونگے۔ایک امیدوار تجویز کنندہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 5 کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتا ہے،کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد اعتراضات لگانے کا مرحلہ شروع ہو گا۔ کسی بھی امیدوار کے حوالے اعتراضات نہ صرف امیدوار لگا سکتے ہیں بلکہ اس حلقہ کا ووٹر بھی کسی بھی امیدوار پر تحریری اعتراضات جمع کروا سکتا ہے۔

حلقہ پی پی 24 میں تمام سیاسی جماعتوں اور ازاد امیدواروں نے کمر کس لی اور الیکشن مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا گیا ہے جبکہ اصل گہما گہمی امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری ہونے بعد شروع ہو گی۔ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن، پی پی پی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، تحریک لبیک، استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی میدان میں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button