جہلم: تعلیمی اداروں اور پرائیوٹ ہسپتالوں کے مالکان نوجوانوں کا استحصال کرنے میں مصروف

جہلم: محکمہ لیبر کے ذمہ داران کی ملی بھگت، نجی تعلیمی اداروں اور پرائیوٹ ہسپتالوں کے مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال کرنے میں مصروف ، محکمہ لیبر کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔ شہر سمیت ضلع بھرمیں پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان کی لوٹ مار کا بازار گرم ، اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان انتہائی کم اجرت پرنجی تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ملازمتیں مہیا کرنے کے دعوے کہیں بھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے ۔ معاشی بدحالی اور حالات کے ستائے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری اور کمر توڑ مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر انتہائی کم اجرت پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور نجی ہسپتالوں میں نوکریاں کر نے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب مذکورہ پرائیویٹ اداروں کے مالکان روشن مستقبل کے سہانے سپنے دکھا کر طلبہ و طالبات سے ماہانہ کی بنیاد پر بھاری فیسیں وصول کرنے میں مصروف ِعمل ہیں ، اگر جائزہ لیا جائے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان نے طلبہ کے والدین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے کچھ ہی سالوں میں اپنی بلند و بانگ عمارتیں ، پلازے ، کوٹھیاں اور لکثری گاڑیوں کے مالک بن چکے ہیں۔

دولت اور لالچ کے حوس میں مبتلا مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں کو انتہائی کم اجرت ادا کرکے کھلم کھلا لیبر ایکٹ کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، کوئی شبہ نہیں کہ تعلیمی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

نوجوانوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیاہے کہ لیبر لاء کے مطابق ضلع جہلم میں موجود ڈسٹرکٹ لیبر آفیسر کو نجی اداروں کے مالکان کے ساتھ مک مکا کرنے کی بجائے قانون پر عملدرآمد کروانے کا پابند بنایا جائے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان پر توجہ مرکوز کرکے پڑھی لکھی قوم دے سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button