حفظ قرآن کی نعمت صلاحیتوں کے لحاظ سے حافظ کو باقی بچوں میں ممتاز کر دیتی ہے، حافظ عبدالحمید عامر

جہلم: حفظ قرآن کی نعمت صلاحیتوں کے لحاظ سے حافظ کو معاشرے کے باقی بچوں میں ممتاز کر دیتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر تکمیل حفظ قرآن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حفظ قرآن مسلمان بچوں کی ابتدائی تعلیم میں بنیادی مقام رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کا پاک کلام جب بچے کے سینے میں محفوظ ہو جاتا ہے تو اس کی باقی صلاحیتوں میں بھی لازمی نکھار آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حفاظ کرام کے والدین اور اساتذہ کرام بھی دلی مبارک کے مستحق ہیں ، جن کے لیے یہ حفاظ بہترین صدقہ جاریہ ہیں۔ والدین کو خصوصی طور پر اب خیال کرنا چاہئے کہ حفظ قرآن کے ساتھ ہی بچے کی دینی تعلیم مکمل نہیں ہوجاتی، بلکہ یہ تو اس منزل کی پہلی سیڑھی ہے، اصل مقام و مرتبہ حافظ تب ہی حاصل کرے گا ،جب حفظ کے ساتھ قرآن و حدیث کا صحیح فہم حاصل کرے گا اور یہ درس نظامی کے مکمل کورس کرنے ہی سے ممکن ہے۔

حفاظ کرام کے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنے جگر گوشوں کے جو کھیلنے کی عمر تھی اور لاڈ پیار کا وقت تھا، تب یہ بچے ایک امانت کی صورت میں ہمارے حوالے کیے اور آج الحمد للہ ہم آپ کے بچوں کو مکمل حافظ قرآن بناکر آپ کی امانت آپ کے سپرد کر رہے ہیں۔

شعبہ حفظ کے صدر مدرس قاری غلام رسول نے اپنے باقی رفقا اساتذہ کرام کی موجودگی میں خوش نصیب حفاظ کا آخر ی سبق سنا اوربانی جامعات حافظ عبدالغفور جہلمی رحمہ اللہ اور علامہ محمد مدنی رحمہ اللہ کو وہ اس موقع یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوئے اور کہاکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بعد انہی بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر اور ان کی مخلصانہ محنتوں کا ثمر ہے کہ آج اس مرکز میں دن رات قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں گونج رہی ہے۔

حاجی حبیب الرحمٰن میر پوری نے اس پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔نائب مدیر الجامعہ حافظ عبدالغفور جہلمی،شیخ الحدیث مولانا سیف اللہ اثری، مدیر امور داخلی مولانا سعد محمد مدنی اور مدیر التعلیم مولانا عکاشہ مدنی،مولانا قطب شاہ اور باقی جامعہ کے اساتذہ کرام بھی موجود تھے۔

معززین شہر میں سے نائب صدر انجمن اہل حدیث جہلم ارشد محمود زرگر، چوہدری محمد سجاد،شیخ محمد اشفاق،محمد طارق کویتی، تنویر اسلم اور دیگر احباب نے خصوصی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button