آسان اقساط پر سرکاری موبائل فون کے لیے درخواست دینے کا طریقہ کیا ہے؟

وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے ’سمارٹ فون فار آل‘ منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد عوام کو آسان اقساط کے ذریعے اسمارٹ فونز فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام شہریوں کو افراط زر کی وجہ سے درپیش مالی چیلنجز سے نمٹنے کے طور پر سامنے آیا تھا۔ اب شہری خاطر خواہ پیشگی ادائیگی کے بغیر اسمارٹ فونز تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس منصوبے نے بھر پور عوامی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ حکومت ذمہ دارانہ مالی طرز عمل کو فروغ دینے کی طرف اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ان شہریوں کے لیے موبائل فون تک رسائی میں اضافے کو یقینی بنا رہی ہے جو اسمارٹ فون خریدنا بوجھ محسوس کرتے ہیں۔

نگراں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر سیف کے مطابق پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں لیزنگ منصوبوں کے ذریعے شہریوں کو موبائل فونز پیش کرسکیں گی جس سے موبائل براڈ بینڈ کے فوائد زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچ سکیں گے۔

توقع ہے کہ اسمارٹ فون کی قسطوں کے آئندہ اجراء سے پاکستان میں تمام شہریوں کو اسمارٹ فونز سے لیس کیا جائے گا، جس کا وسیع تر مقصد معیشت کو متحرک کرنا اور ای کامرس کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ سرکاری طور پر موبائیل حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے کا طریقہ کچھ یوں ہے:

جی ایس ایم اے اسمارٹ فون فار آل اسکیم

اس منصوبے کے تحت افراد کو آسان اقساط پر 10 ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کے اسمارٹ فونز خریدنے کا اختیار دیا گیا ہے، جس کی ادائی کا دورانیہ 3 سے 12 ماہ ہے۔

اہلیت

شناختی کارڈ رکھنے والے شہری، بشمول طلبا، پیشہ ور افراد اور کم آمدنی والے شہری اس اسکیم میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔

سود سے پاک اقساط

مجوزہ منصوبے کے تحت پاکستانی شہری کم از کم 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کرکے بلا سود اقساط پر اسمارٹ فونز حاصل کرسکتے ہیں۔

190 ملین موبائل فونز کے استعمال کے ساتھ پاکستان عالمی سطح پر 7ویں سب سے بڑی موبائل فون مارکیٹ کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ’اسمارٹ فون فار آل‘ منصوبے کا مقصد ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنا ہے، اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسمارٹ فونز شہریوں کی متنوع رینج کے لیے زیادہ قابل رسائی ہوں۔

موبائیل فونز کے حصول کے لیے مزید اپ ڈیٹس اور آن لائن ایپلی کیشنز کے لیے شہریوں کو وزارتِ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مستفید ہونے کا کہا گیا ہے۔

وزارتِ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق یہ اقدام نہ صرف افراد کو درپیش معاشی چیلنجوں سے نمٹتا ہے بلکہ ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینے اور معاشی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانے کے وسیع تر مقصد سے بھی ہم آہنگ ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button