غیر قانونی پارکنگ، تجاوزات اور ٹریفک کے بوسیدہ نظام نے جہلم شہر کا حلیہ بگاڑ دیا

جہلم: ٹریفک پولیس نے آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں، غیر قانونی پارکنگ، تجاوزات اور ٹریفک کے بوسیدہ نظام کے حوالے سے راولپنڈی ڈویژن کے پہلے بڑے شہر کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس جہلم میں تعینات ٹریفک پولیس افسران کی نا اہلی نے جہلم شہر کے چوک چوراہوں کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا، تجاوزات کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم جگہ جگہ غیر قانونی چنگ چی رکشہ پارکنگ شہر کی پہچان بن گئے، شاندار چوک سے ریلوے روڈ، تحصیل روڈ، اولڈ جی ٹی روڈ، سول لائن روڈ سمیت بازاروں چوک چوراہوں میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور چنگ چی رکشہ اسٹینڈز کی غیر قانونی پارکنگ سے شہری پریشان ہیں۔

بازاروں سے ملحقہ گلیوں میں بھی رکشوں، موٹر سائیکلوں کی بھر مارنے پیدل گزرنے والوں کا جینا حرام کر کے رکھ دیا ہے، سڑکوں پر آدھی آدھی سڑکیں غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ ز میں تبدیل ہو چکی ہیں جہاں دکانداروں نے اپنی الگ بادشاہت قائم کرتے ہوئے دکانوں کے باہر کئی کئی فٹ دکانیں سجا کر شہر کی سڑکوں کو تنگ گلیوں میں تبدیل کررکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے پہلے بڑے شہر میں غیر قانونی پارکنگ اور ٹریفک کے بڑھتے مسائل نے ٹریفک پولیس کی نااہلی کو عیاں کر دیا ہے۔

شہریوں نے آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل ڈی آئی جی پنجاب ٹریفک کی مسلسل خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے اعلیٰ افسران کی ٹریفک پولیس جہلم کی ناقص کارکردگی پر مطمئن رہنا شہریوں کیلئے مایوسی اور پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے ٹریفک پولیس کے افسران شہریوں کے دھڑا دھڑ چالان کرتے دکھائی دیتے ہیں اس کے علاوہ ٹریفک وارڈنز کا شہریوں کے ساتھ رویہ بھی سخت سے سخت ہوتا جا رہا ہے شہر کے اہم ادارے کو لیڈ کرنے والے افسران بھی بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔

شہریوں نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب ایڈیشنل ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم کے باسیوں کی مشکلات میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک نظام کا بیڑا غرق کرنے والے افسران سمیت کام چور ٹریفک وارڈنز کیخلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کی مشکلات میں کمی واقع ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button