اُمت کے مسائل کا حل اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے، علمائے کرام، برمنگھم میں عظیم الشان کانفرنس

برمنگھم: جنتی عورتوں کی سردار حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا اور خلیفہ اول بلافصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ بزرگ ترین ہستیاں ہیں جن کی سیرت و کردار سے ہم اپنی زندگیوں کو روشن کر سکتے ہیں، بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا تاریخ اسلام کی وہ عظیم ترین خاتون ہیں جن کے منصب و مقام کی گواہی خاتم النبیین ﷺ نے خود ارشاد فرمائی، آپ محبت، ایثار، قربانی، وفا اور معراجِ نسواں کا کامل ترین نمونہ اور اخلاق و کردار، حسن سلوک اور گفتگو میں رسول اللہﷺ کا آئینہ دار تھیں۔

ان خیالات کا اظہار سجادہ نشین حضرت امیر ملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے جامع مسجد امیر ملت برمنگھم میں عظیم الشان خاتون جنت سلام اللہ علیہا و خلیفہ اول بلافصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں پیر سید ارشد حسین گیلانی، پیر سید فاروق حسین شاہ سیالوی چشتی، سید رشید حسین شاہ جماعتی، سید دلیر بادشاہ، سید ظفر اللہ شاہ، پیر یمین الدین برکات چشتی، علامہ محمدساجد، علامہ نبیل افضل قادری، مفتی ولی رضا قادری، علامہ حافظ محمدشفیق سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں سے مشائخ عظام و علماءکرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

محفل کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعد سید نعمان حسین شاہ جماعتی اور حافظ محمدشفیق جماعتی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔ سجادہ نشین حضرت امیر ملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے صدارتی خطبہ دیا۔

انہوں نے خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرہ سلام اللہ علیہا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و الفت سمیت دین و ملت کےلئے آپ کی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی۔

پیر سید منور حسین شاہ جماعتی اپنے خطاب کا آغاز منکرین ختم نبوت سے کرتے ہوئے کہا کہ کہ میرے جدامجد امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری نے اپنی ساری زندگی ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کےلئے صَرف کی، موجودہ دور میں منکرین ختم نبوت کی ارتدادی سرگرمیاں خطرناک حدتک بڑھ چکی ہیں، جن کا تدارک کرنا ہر مسلمان کا دینی فرض ہے، یہی وہ عقیدہ ہے جس کی حفاظت کےلئے مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انتہائی سرگرمی دکھا کر ثابت کیا کہ اس عقیدہ پر کوئی ضرب برداشت نہیں کی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ اہم دینی ذمہ داری ہے لہٰذا تمام مسلمانوں کو اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کےلئے جذبہ صدیقی سے سرشار ہوکرمیدان عمل میں نکلنا ہوگا۔ مسلمان عورتوں کو خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے نقش قدم پر چلنا چاہئے کیونکہ اسی میں ان کی بقا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج ہماری بہنیں، بیٹیاں اور مائیں اپنی معاشی و ازدواجی زندگی میں بہت پریشان ہیں، ہر کوئی دُکھوں کے لق و دق صحرا میں پھر رہا ہے، بیٹیاں ہیں کہ مستقبل کی طویل زندگی کے سفر کو طے کرنے کےلئے پریشان ہیں، بہنیں ہیں کہ اپنی اولاد اور خاندان کے بہتر مستقبل اور حال کےلئے سرگرداں اور بیکراں ہیں، مائیں اپنی بچیوں کے آنگن مصائب و آلام اور پریشانیوں سے محفوظ رکھنے کےلئے ٹوٹتی پھوٹتی جارہی ہیں جبکہ ان تمام مسائل کا حل ہمیں سیرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا پر عمل کر کے مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں سیدہ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کو بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی عورتوں کو بتانا ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی نے نسوانیت کو کیا درس دیا ہے جب آپ شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہ کے عقد میں آئیں تو امور خانہ داری کو کس طرح نبھایا۔ پھر جب جب حسنین کریمین، نوجوانان جنت کے سرداروں کی ماں بنیں تو انہوں نے دنیا بھر کی ماؤں کو اولاد کی پرورش کے حوالے سے درس دیا۔

پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ نے وصال نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتحان میں ثابت قدم رہتے ہوئے نو زائدہ اسلامی ریاست کو انتہائی قلیل دور خلافت میں مضبوط بنیاد پر کھڑا کر دیا۔ آپ تدوین قرآن، ابتداتسخیر عراق وشام، منکرین زکوٰۃکا سد باب نیزانسداد فتنہ ارتداد کا سبب بھی ہوئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مفتی چمن زمان (سکھر) نے کہا کہ صحابہ کرام وہ ہستیاں ہیں جن کی وجہ سے اسلام ہم تک پہنچا ہے، ان عظیم ہستیوں میں سے بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم اس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ جن لوگوں کی زندگیاں حصولِ زر کےلئے ساز وآواز میں گزریں وہ تو ہمارے لئے قومی سرمایہ گردانے گئے اور ان کی پیدائش وموت کے دن ہمیں خوب یاد رہتے ہیں مگر وہ ہستیاں جن کی زندگیاں نشانِ منزل بنیں ان کی یادیں ہم فراموش کئے بیٹھے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ذات سے تبدیلی کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے قبل ہمیں ہمارا ضمیر ملامت کرے۔

پیر یمین الدین برکات چشتی کا شرکائے محفل سے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکر صدیق اللہ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے، آپ بچپن سے ہی پاکیزہ سیرت و کردار کے مالک تھے، زمانہ جاہلیت میں بھی شراب، بت پرستی،جھوٹ وغیرہ برے کاموں سے بچتے رہے۔

علامہ نبیل افضل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وفا کا حق ادا کیا۔ آپ نے اپنی جان پر کھیل کر حضور ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ آپ نے ختم نبوت اور زکوٰۃ کے منکرین کےخلاف ڈٹ کر جہاد کیا۔ آپ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ کی چار نسلوں نے شرف صحابیت حاصل کیا۔

سید فاروق شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر قرآن و سنت کی روشنی میں صحابہ و تابعین کا اجماع ہے، خلافت راشدہ کا دور نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عملی تصویر ہے، اس کے نفاذ سے ملکی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔سید ظفراللہ شاہ نے مسلمان عورتوں کو سیرتِ بی بی فاطمہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی، انہوں نے کہا کہ تاجدار صداقت حضرت سیدنا صدیق اکبر کے امت پر بے شمار احسانات ہیں ان کی قربانیوں کو تا قیامت فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

مفتی ولی رضا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت مسلم حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپ نے سب سے پہلے واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی جس کی بنا پر دربار نبوت سے آپ کو صدیق کے لقب کا شرف حاصل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے سب کے احسانوں کا بدلہ اتار دیا ہے، سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کہ اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ ہی بروز قیامت اتاریں گے، مزید فرمایا کہ روز قیامت میں اس طرح اٹھایاجاؤں گا کہ میرے دائیں جانب ابوبکر اور بائیں جانب عمر (رضی اللہ عنہم) ہوں گے۔

کانفرنس کے اختتام پر پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے فلسطین و کشمیر سمیت پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں خصوصاً پاکستان اور اہالیان پاکستان کی ترقی، خوشحالی، امن و امان کی بحالی اور بہتر مستقبل کیلئے خصوصی دعائیں کیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button