مخیر حضرات

اندازِ بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

شہر کی صفائی ستھرائی ہو، لاء اینڈ آرڈر ہو، صحت یا تعلیم ہو، ایکسائز یا ٹیکسیشن ہو، اسی طرح بہت سے ادارے ہیں جن کے سربراہ موجود ہیں اور وہ سب اپنے اپنے مروجہ قوانین کے تحت اپنے اداروں کو چلا رہے ہیں۔ ہر ادارے کا سربراہ اپنے سینئر کو جواب دہ ہے مگر آپ مخصوص اداروں میں ہی کیوں متحرک پائے جاتے ہیں اور باقیوں کو کیوں نظرانداز کرتے ہیں۔

جیسے کہ ان اداروں کو آپ اہمیت دیتے ہیں جن کے پاس فنڈز ہیں یا جن کے ذریعے فنڈز کے حصول کے لئے متحرک کیا جاسکتا ہے مگر جن اداروں کو فنڈز کی اشد ضرورت ہے انکی طرف نہ تو آپ کی توجہ ہے اور نہ معلومات۔ صرف ان کاموں کی طرف کیوں متوجہ ہیں جن میں مخیر حضرات کا اہم رول ہے، جیسے کہ روڈ کے درمیان پودے لگانا اور گملے لگانا اور جم خانہ جیسی قبل از وقت سہولت فراہم کرنا یا دیگر ایسی اسکیمیں جو زیر غور ہیں۔

ایسے پروگرام ہی کیوں چلائے جاتے ہیں جو عوام الناس کو فوری نظر آتے ہیں اور درینہ مسائل سے کیوں چشم پوشی کی جاتی ہے اور ان کے حل کے لئے کیوں کاروباری برادری کو متحرک نہیں کیا جاتا، جیسا کہ منگلا روڈ دینہ اور سول لائن جہلم بارش کے دوران گنگا جمنا بنے ہوتے ہیں، کاروبار کرنے والے عام آدمی متاثر ہوتے ہیں۔

پختہ تجاوزات جیسے دینہ مین بازار اور منگلا روڈ پر پانچ فٹ تک سڑک کو دکانوں میں شامل کیا گیا ہے اور جہلم میں اولڈ جی ٹی روڈ جادہ سے لیکر شاندار چوک تک گورنمنٹ کے کمرشل پلاٹوں پر قبضہ مافیا کا قبضہ ہے۔ جادہ سے لیکر شاندار چوک تک روڈ سے ملحقہ کاروباری مراکز کے عقب میں واقع ہر دو طرفہ بائیس فٹ چوڑی گلیوں میں تجاوزات قائم ہیں اور کئی جگہوں پر تو بلڈنگ بنا کر بند کر دی گئی ہیں کیوں نظر انداز کیے جاتے ہیں کیونکہ یا یہ مخیر حضرات ہیں یا تگڑے ہیں، مگر تجاوزات کے نام پر گرایا جاتا ہے، پکڑا جاتا ہے تو وہ اچھو کا ٹھیہ ہے، کیونکہ بے چارہ مالی طور پر بھی کمزور ہے اور ویسے بھی کمزور ہی ہے۔

دینہ میں آئے دن جی ٹی روڈ پر اوورہیڈ بریج نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں عام بندہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، اس کی اشد ضرورت ہے یا گملوں اور پودوں کی؟۔ میونسپل کمیٹی دینہ میں اگر ایک اسی بات کی انکوائری ہو جائے کہ پچھلے پانچ سالوں میں کتنے کے پودے خریداری کی گئی اور کہاں لگائے گئے؟ انتظامی پول کھل کر سامنے آ جائے گا۔

ہمارے دینہ کے بڑے مسائل میں مکمل طور پر تحصیل کو فعال کرنا، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا قیام، گیس کی فراہمی بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہیں مگر تحصیل دینہ کی ادھوری انتظامیہ ایک اسسٹنٹ کمشنر اور ایک تحصیلدار ہمیں غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف ملتے ہیں۔

جی ٹی روڈ کے درمیان پودے لگانے ہیں اور جم خانہ کامیاب کرنا ہے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ ایسے کام کیے جائیں جو دکھتے ہیں اور ایسے کاموں سے چشم پوشی کی جائے جو دکھتے ہیں۔

"جاری ہے پروگرام ابھی وڑا نہیں” آئندہ قسط میں آپ کو بتاؤں گا کہ ایک کنجوس سے کنجوس کو کیسے مخیر بندے میں سافٹ ویئر ایڈیٹ کر کے بدلا جاتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button