سیاسی رہنماؤں کی نااہلی کے باعث للِہ تا جہلم سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے، پیر انور قریشی

پنڈدادنخان: لِلہ تا جہلم سڑک کی ازسر نو تعمیر کے منصوبے کو تین سال گزر جانے کے باوجود بھی روڈ کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے، روڈ پر روازانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں جبکہ نمک ،کوئلہ ،سیمنٹ اور سوڈا ایش کی ترسیل بھی اسی روڈ سے ہوتی ہے۔ سیاسی بنیادوں پر منصوبہ التوا کا شکار ہونے کے باعث عوام خوار ہورہے ہیں، نماز جمعہ کے خطبات میں عوام کو آگاہی اور مطالبات کی منظوری کے لیے قررار داد پیش کرنے کا اعلان ۔

معروف عالم دین پیر محمد انور قریشی نے لِلہ تا جہلم دو رویہ زیر تعمیر روڈ کے کام کی موجودہ صورت حال پر جامع رضویہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کی جس میں سول سوسائٹی ،وکلا برادری ،مذہبی و سماجی تنظیموں سمیت تحصیل بھر سے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

پیر انور قریشی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل لِلہ تا جہلم روڈ کی ازسر نو تعمیر کا کام شروع کیا جو کہ مقامی سیاسی رہنماؤں کی ذاتی عناد اور نااہلی کے باعث تاحال کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے، موٹروے سے ملانے والی واحد روڈ پنڈدادنخان تا لِلہ روڈ اور پنڈدادنخان سے جہلم اور دیگر اضلاع کو ملانے والی سڑک پر سفر کرنا محال ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع کے منصوبے بعد میں شروع ہوئے جوکہ پایا تکمیل کو پہنچ چکے ہیں، سیاسی رہنماؤں کی نااہلی کے باعث ہمارا علاقہ دورے جدید میںپسماندگی کی اعلیٰ مثال بنا ہوا ہے جبکہ کھنڈر سڑکوں کے باعث گاڑیوں کا لاکھوں روپے کا نقصان ہونا اور حادثات معمول بن چکے ہیں۔

پیر انور قریشی نے کہا کہ لوگوں کی قیمتی جانیں دائو پر لگی ہوئی ہیں لیکن تحصیل پنڈدادنخان کے باسیوں کو بے یارومددگار چھوڑدیا گیا ہے چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے جبکہ مریضوں کو علاج معالجہ کی غرض سے دوسرے شہروں میں منتقل کرنا بھی کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔

مولانا پیر محمد انور قریشی کا دوران پریس کانفرنس کہنا تھا للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے ایک اچھا منصوبہ تھا، یہ روڈ ضلع جہلم کا واحد روڈ جو پورے ضلع کو ملاتا ہے، روزانہ اس روڈ پر ہزاروں افرادسفر کرتے ہیں ۔ نمک ، کوئلہ ، سیمنٹ ، سوڈا کی اس روڈ کے ذریعے سے پورے ملک میں ترسیل ہوتی ہے کھیوڑہ نمک کی کان ملک کا ایک اہم ترین سیاحتی مرکز ہے جہاں پر ہر سال لاکھوں ملکی وغیر ملکی سیاح اس روڈ سے گزرکرآتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ تین سال قبل اس روڈ کی از سرنو ڈبل روڈ کے طور پرتعمیر کا آغاز کیا گیا جو بدقسمتی سے اکھیڑے جانے کے بعد پایا تکمیل تک نہیں پہنچ سکا اب روڈ کی صورتحال انتہائی خستہ اور تباہ کن ہے گاڑیوں کا لاکھوں روپے روزانہ کی بنیاد پر نقصان ہورہا ہے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طےملے ہوتا ہے موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے افراد کے لئے سفرمحال ہو چکا ہے ۔

مولانا پیر محمد انور قریشی نے کہا کہ ایک اچھا منصوبہ ہمارے مقامی سیاسی رہنماؤں کی نااہلی ، ذاتی مفادات اور باہمی چپقلش کی نذر ہو گیا اور بڑی وجہ اعلی حکمرانوں کا ہمارے علاقے کے ساتھ سوتیلے جیسا سلوک ہے اس روڈ کی تعمیر کا کام روک کر اس کے فنڈ ز دیگر اضلاع کو منتقل کر دیئے گئے دیگر اضلاع کے ، بعد میں منظور ہونے والے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں اور ہمارا علاقہ حکمرانوں اور مقامی نااہل سیاسی رہنماؤں کی وجہ سے تباہی اور خستہ حالی کا شکار ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم علما کرام ،وکلا حضرات ،سول سوسائٹی ،مذہبی و سماجی تنظیمات اور ضلع جہلم کے لاکھوں افراد حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لِلہ تا جہلم روڈ کی تعمیر کا کام جلد از جلد مکمل کروایا جائے جبکہ نماز جمعہ کے خطبات میں عوام کو آگاہی اور مطالبات کی منظوری کے لیے قررار داد پیش کرنے کا اعلان بھی کیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button