سعودی عرب دنیا کے 82 فیصد کارکنوں کا پسندیدہ ملک بن گیا

ریاض: سعودی عرب دنیا بھر میں روزگار کے سلسلے میں 82 فیصد کارکنوں کا پسندیدہ ملک بن گیا۔

سعودی نیوز پورٹل سبق کے مطابق LinkedIn کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروسے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے 82 فیصد محنت کش یورپ اور امریکہ سے زیادہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اس سروے میں 16 ہزار 300 محنت کشوں سے ان کی رائے معلوم کی گئی جن میں سے رائے دینے والے 46 فیصد کارکنوں نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی طرز معیشت کو پسند کیا، 35 فیصد نے کہا سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں زیادہ بہتر طریقہ سے زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ رائے دینے والے 35 فیصد افراد یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب میں رہ کر وہ اپنے کام میں مزید ترقی کرسکتے ہیں جب کہ سعودی عرب اور امارات میں رہنے والے 62 محنت کش بہتر ملازمت کی تلاش میں رہتے ہیں۔

ادھر سعودی عرب نے 6 ممالک سے گھریلو ملازمین بھرتی کرنے کی فیس میں کمی کردی، مملکت کی انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت (MHRSD) نے اعلان کیا ہے کہ وزارت نے 6 ممالک سے گھریلو عملے کی بھرتی کے اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد میں کمی کردی ہے۔

اس حوالے سے وزارت افرادی قوت نے ایک بیان میں کہا کہ فلپائن، سری لنکا، بنگلہ دیش، یوگنڈا، کینیا اور ایتھوپیا سے گھریلو ملازمین کو بلانے کی لاگت کی انتہائی حد کم کی گئی ہے، یہ اقدام بھرتی کے اخراجات اور ان کے انتظامی ضوابط کا جائزہ لینے کی وزارت کی کوششوں کے فریم ورک کا حصہ ہے، جس کا مقصد بھرتی کے اخراجات میں تبدیلیوں کے ذریعے مناسب قیمتوں کو یقینی بنانا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ فلپائن سے گھریلو عملے کی درآمد کی لاگت 15 ہزار 900 ریال سے کم کرکے 14 ہزار 700ِ اور سری لنکا سے 15 ہزار ریال سے کم کرے 13 ہزار 800 ریال کردی گئی ہے، اسی طرح بنگلہ دیش سے گھریلو ملازمین کی بھرتی کی لاگت کو 13 ہزار ریال سے کم کرکے 11 ہزار 750 ریال کی گئی ہے، کینیا سے یہ لاگت 10 ہزار 870 سے کم ہوکر 9 ہزار ہوچکی ہے، یوگنڈا سے گھریلو ملازمین کی درآمد کی لاگت ساڑھے 9 ہزار کی بجائے 8 ہزار 300 ریال ہوگی، ایتھوپیا سے 6 ہزار 900 سے کم کرکے 5 ہزار 900 ریال مقررکردی گئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ وزارت نے پہلے لائسنس یافتہ بھرتی کرنے والی کمپنیوں اور دفاتر کو ہدایت کی تھی کہ وہ کچھ قومیتوں سے گھریلو ملازمین کی خدمات کی بھرتی کے اخراجات کے لیے مقرر کردہ انتہائی حد پر عمل کریں کیوں کہ وزارت کی جانب سے سیرالیون، برونڈی سے 7ہزار 500 ریال اور تھائی لینڈ سے 10 ہزار ریال انتہائی حد مقرر کی ہوئی ہے، جس میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس شامل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button