عام انتخابات: جہلم میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھر گیا؟

آٹھ فروری کو ملک پاکستان میں الیکشن ہوں گے یا نہیں ہوں گے اب بھی قیاس آرائیاں ہیں لیکن متعدد اضلاع میں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پی ٹی آئی نے نظریاتی کارکنوں کو یکسر نظر انداز کرکے سخت زیادتی کی ہے۔

ضلع جہلم میں تین بڑے ناموں چوہدری ندیم خادم ،چوہدری فرخ الطاف ،بلال اظہر کیانی نے این اے 60کے ٹکٹ کے حصول کے لیے درخواستیں دیں۔ گھر مالہ خاندان کے چشم و چراغ ندیم خادم’ چوہدری فرخ الطاف اور بلال اظہر کیانی کی مخالفت کرتے رہے۔

انہوں نے پی ایم ایل (این)کے سن فلاور میں منعقدہ ورکرز کنونشن کے موقع پر بلال اظہر کیانی کے ساتھ آنے والے (ن)لیگ کے سابق ایم پی اے چوہدری سعید اقبال کو یہ کہہ کر اسٹیج پر نہ آنے دیاگیا کہ انہوں نے گزشتہ عام انتخابات میں (ن)لیگ کے مدمقابل آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔

چوہدری ندیم خادم نے چوہدری فرخ الطاف رجیم چینج کے بعد (ن)لیگ میں آئے تو ان پر بھی تنقید کے خوب نشترچلائے۔ الیکشن کی گہما گہمی شروع ہوئی تو یکطرفہ اختلافات شدت اختیار کرگئے، چوہدری فرخ الطاف خاموش رہے کوئی جوابی وار نہ کیا۔

شنید یہ ہی تھی کہ (ن)لیگی قیادت این اے 60میں چوہدری فرخ الطاف، این اے 61میں راجہ مطلوب مہدی ، پی پی 24میں مہر فیاض، پی پی 25میں ندیم خادم اور پی پی 26میں ناصر للِہ کو ٹکٹ دے گی۔ گھرمالہ خاندان نے بلال اظہر کیانی سے دوستانہ تعلقات استوار کرنا شروع کردئیے،نفرت محبت اور بھائی چارے میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی۔

ادھر آئی پی پی نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات کی تو پی پی 24سے مہر فیاض پر اعتراض دائر کروا دئیے گئے اور اتحاد کرکے راجہ یاور کمال کا ٹکٹ فائنل کردیاگیا، یہاں مہر فیاض اور اویس خالد کی قربانیوں کو (ن)لیگ نے نظر انداز کرکے ذاتی مفادات دیکھے۔ ادھر گھرمالہ خاندان اور بلال کیانی کو علم ہوا کہ چوہدری فرخ الطاف کا این اے 60میں ٹکٹ فائنل ہورہاہے تو دونوں نے مل کر قیادت کے سامنے ٹکٹ تبدیل کروانے کی کوشش شروع کردی۔

ذرائع بتاتے ہیں گھرمالہ خاندان نے قیادت کو کہا کہ اگر ہمیں ٹکٹ نہیں دینا تو نہ دیں لیکن فرخ الطاف کی جگہ پربلال اظہر کیانی کو ٹکٹ دے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ایسا ہی ہوا(ن)لیگی قیادت نے فیصلہ تبدیل کیا، این اے 60میں بلال اظہر کیانی جبکہ این اے 61میں نہایت درینہ سیاسی خاندان کو نظر انداز کرکے چوہدری فرخ الطاف کو ٹکٹ دے دیا گیا۔

نوابزادہ خاندان عرصہ دراز سے نواز شریف کے ساتھ چلا آرہا ہے، مشرف دور میں بھی نوابزدہ اقبال مہدی (مرحوم) نے بی اے کی شرط کی وجہ سے راجہ افضل مرحوم کے بیٹے اسد افضل کو اپنے حلقہ سے کامیاب کروایا۔ چوہدری ندیم خادم کی ضد کی وجہ سے صرف مطلوب مہدی کے ساتھ نہیں ہوئی بلکہ چوہدری فرخ الطاف اپنے آبائی حلقہ سے باہر ہوگئے۔

چوہدری ندیم خادم کے چچا سابق ایم پی اے چوہدری لال حسین ٹکٹ سے محروم ہو گئے اور سب سے زیادہ فائدہ بلال اظہر کیانی کو ہوا، یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اب چوہدری ندیم خادم پارٹی کو متحد اور کامیاب بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ کل تک وہ چوہدری فرخ الطاف اور بلال اظہر کیانی کو برا بھلا کہتے تھے آج پارٹی کی خاطر انکے ساتھ ملاقاتیں کررہے ہیں۔

اگر بلال اظہر کیانی کی جگہ فرخ الطاف جبکہ فرخ الطاف کی جگہ مطلوب مہدی کو ٹکٹ مل جاتا تو کیا حرج تھا؟، اس وقت پارٹی کے وسیع تر مفاد میں قربانی کیوں نہ دی گئی؟ قربانی صرف مطلوب مہدی،مہر فیاض،اویس خالد ،لال حسین کی مطلوب تھی؟۔

اب متحد ہوکر الیکشن مہم چلانے کی باتیں ہورہی ہیں سب کے مفادات ہیں سب ضرور اکٹھے ہوں گے لیکن یہ غیر فطری اتحاد ہوگا۔ الیکشن کے چند ماہ بعد اختیارات اور کمیشن کی جنگ شروع ہوجائے گی اور یہ اتحاد بھائی چارے کا حال اسی طرح ہوگا جس طرح راجہ محمد افضل خان (مرحوم)، مہر فیاض،حافظ اعجازکے ساتھ ہوا تھا۔

پی ٹی آئی کا بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر شیرازہ بکھر گیا ہے، نظریاتی کارکنان کو جیلوں میں گئے۔ احتجاج، جلسے، ریلیاں نکالیں وہ نظر انداز کرکے این اے 61میں پہلے (ن)لیگی غلام مصطفی کندووال کو ٹکٹ دیاگیا پھر تبدیل کرکے کرنل(ر)شوکت مرزا کو دیا گیا ہے جن کا پی ٹی آئی کے لیے کوئی کمال نہیں، کوئی خدمات نہیں۔

حلقہ پی پی 26میں درینہ کارکن وارث اعوان کو ٹکٹ دے کر تبدیل کرکے برگیڈئیر(ر)مشتاق کو ٹکٹ دیا گیا ہے جو ایک کارکن سے زیادتی ہے۔ پی پی 25،پی پی 24اور این اے61میں اگرچہ پرانے ساتھیوں کو ٹکٹ دئیے گئے ہیں لیکن یہ چہرے عوام میں اتنے مقبول نہیں اور بلے کا نشان بھی نہیں ہے تو پی ٹی آئی کے لیے ضلع جہلم سے کوئی بھی سیٹ نکالنا مشکل ہی نہیں موجودہ صورتحال میں ناممکن بھی دکھائی دے رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button