جہلم: تجارتی اداروں، کارخانوں، بھٹہ خشت اور فیکٹریوں کے ملازمین معاشی بدحالی کا شکار

جہلم: محکمہ محنت حکومت پنجاب نے یکم جولائی 2023 سے تمام صنعتی و تجارتی اداروں، دکانوں، کارخانوں ، بھٹہ خشت اور فیکٹریوں کے ملازمین کی کم از کم شرح اجرت آٹھ گھنٹے یومیہ اور ماہانہ 26 دن کی اجرت 32 ہزارروپے ماہانہ مقرر کی تھی۔

اسی طرح ڈیلی ویجز ورکرز کی آٹھ گھنٹے یومیہ اجرت 1230 روپے 77 پیسے مقرر کی جس پر محکمہ لیبر ضلع بھر میں عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام ہے جس کی وجہ سے صنعتی و تجارتی اداروں ، دکانوں ، کارخانوں، بھٹہ خشت اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین بری طرح معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔

محکمہ لیبر ضلع جہلم کے ذمہ داران نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات پر عملدرآمد کروانے کی بجائے مالکان کے ساتھ معاملات طے کررکھے ہیں جس کیوجہ سے محنت کشوں کو22/25 ہزار تنخواہ اور 12 گھنٹے ڈیوٹیاں لی جارہی ہیں۔

محنت کشوں نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری محنت، محتسب پنجاب سے نوٹس لینے اور حکومت کی طرف سے مقرر کی گئی تنخواہ 32 ہزار تنخواہ ، 8 گھنٹے ڈیوٹی اور 4 چھٹیاں دلوانے کا پابند بنایا جائے تاکہ غریب محنت کش ، دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں کے چولہے جل سکیں ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button