کینیڈا کا لاکھوں افراد کو شہریت دینے کا فیصلہ

وزیر امیگریشن کینیڈا مارک ملر نے کہا ہے کہ کینیڈا ایک وسیع اورجامع پروگرام کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کے تحت غیر دستاویزی تارکین وطن کو مستقل شہریت کے لیے درخواست دینے کی اجازت دی جائے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مارک ملر نے گلوبل اینڈ میل کو بتایا کہ اس نئے پروگرام میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو عارضی طور پر کام کرنے یا غیر ملکی طالب علم کی حیثیت سے قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہوئے اور ویزہ کی مدت ختم ہوجانے کے بعد بھی یہاں ہی رہے۔

یہ اعلان کینیڈا کے 2025 تک 5 لاکھ تارکین وطن کو لانے کے امیگریشن کے اہداف کے عین مطابق ہے کیونکہ ملک کی زیادہ تر آبادی امیگریشن کی وجہ سے ہی بڑھی اور اس نے حالیہ سالوں میں اقتصادی ترقی میں بھی مدد کی۔

مارک ملر نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 3 سے 6 لاکھ کے قریب لوگ بنا درست دستاویز کےکینیڈا میں رہائش پذیر ہیں —فائل فوٹو: رائٹرز

دی گلوبل اینڈ میل نے مارک ملر کے حوالے سے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 3 سے 6 لاکھ کے قریب لوگ بنا درست دستاویز کے یہاں رہائش پذیر ہیں جن میں اکثر کو ملک بدری کا خطرہ ہے کیونکہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

مارک ملر نے مزید کہا کہ حال ہی میں آنے والے افراد سمیت درست دستاویزات کے بغیر رہنے والے تمام افراد کو مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وہ غیر دستاویزی تارکین وطن کو اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کی اجازت دینے کے لیے موسم بہار میں کابینہ کو ایک تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہاؤسنگ بحران اور بلند افراط زر کے پیش نظر حکومت نے گزشتہ ماہ اگلے دو سالوں کے لیے امیگریشن کے اہداف کو برقرار رکھا اور کہا کہ وہ 2026 کے بعد سے امیگریشن کو فروغ دینا بند کر دے گی۔

کینیڈا نے اس سال 4 لاکھ 56ہزار، 2024 میں 4لاکھ 85ہزار، 2025 میں 5 لاکھ افراد کی امیگریشن کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس پانچ لاکھ کی سطح کو 2026 تک برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button