مانچسٹر: مناظر اسلام مفکرملت علامہ احمد نثار بیگ قادری رحمہ اللہ کا عرس مبارک بڑے تزک واحتشام کے ساتھ مرکزِ اسلام قادریہ جیلانیہ اسلامک سینٹر مانچسٹر میں منعقد ہوا۔
آغاز تلاوت کلام مجید سے ہوا جس کی سعادت حافظ قاری عمران رضا گولڑوی چشتی نے حاصل کی۔ انہوں نے مکمل سورۂ یٰسین ، سورۂ ملک اور سورۂ مزمل کی تلاوت کی۔ پھر سید ضیاء الرحمٰن شاہ نے سورۂ الضحیٰ اور سورۂ انشراح کی تلاوت کی۔
سلسلۂ نعت کا آغاز پاکستان سے تشریف لائے ہوئے محمد سلیم خان ایڈووکیٹ نے کیا۔ پھر حافظ قاری عمران رضا گولڑوی چشتی نے حاضری پیش کی۔ اس کے بعد سید محمد ذیشان حیدر شاہ نے نذرانہ عقیدت پیش کیا اور پھر قاری محمد سبطین علی نے حاضری پیش کی۔ خطابات کا آغاز علامہ صاحبزادہ عتیق الرحمٰن (اسکاٹ لینڈ)کے خطاب سے ہوا۔
انہوں نے حضرت مفکرملت سے اپنی طا لب علمی کے دور سے تعلق کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یوکے آنے کے بعد یہ تعلق مزید پختہ ہوا۔ پھر علامہ پیر سید ظفر اللہ شاہ نے بیان کے دوران حضرت مناظر اسلام کے عیسائی برادری کے ساتھ ہونے والے مناظرے کا احوال بیان کیا کہ کیسے حضرت مناظر اسلام نے تین گھنٹے عیسائی پادریوں کے ساتھ مناظرہ کیا اور بائبل کے مختلف نسخوں کا تضاد بیان کیا۔ اسلام کی برحق ہونے پر دلائل پیش کئے۔ پھر آپ نے حالیہ پیش آنے والے واقعے (تفسیر صغیر) کے حوالے سے قوم کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد پاکستان سے تشریف فرما ہوئے علامہ محمد طیب ہزاروی نے ترنم کے ساتھ محفل کو گرمایا۔ علم اور علماء کی فضیلت پر لاجواب خطاب پیش کیا۔ پھر پاکستان گجرات سے تشریف لائے ہوئے عظیم مداح رسول محمد عامر فریدی نے ہدیۂ نعت پیش فرمائی۔
بعدازاں علامہ عمرحیات قادری نے خطاب میں بتایا کہ کیسےعلامہ احمد نثار بیگ قادری رحمہ اللہ نوجوان علماء کو دینی خدمات کیلئے اجاگرکرتے اور ترغیب دلاتے تھے۔ پھر علامہ فضل محمد قادری نے انگلش میں مناظر اسلام کی دینی اور ملی خدمات کو نئی نسل کے سامنے بیان کیا۔ اس کے بعدعلامہ محمد سجاد رضوی نے بڑے خوبصورت انداز میں حضرت مناظر اسلام کی جرأت و بہادری کو بیان فرمایا بالخصوص پاکستان میں جب حکومتی جبر و قہر علماء و مشائخ اہلسنت پر گرا تو اس وقت حضرت مفکرملت نے برطانیہ میں صداء احتجاج بلند کی جس کے دور رس نتائج برآمد ہوئے۔
اس موقع پر علامہ قاضی تجمل حسین اختر (ایڈنبرا)نے اپنے مخصوص انداز میںحضرت مفکرملت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس کے بعد علامہ مولانا حافظ عبدالغفور چشتی صاحب (ایڈنبرا)نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایاکہ میرے ساتھ حضرت مفکرملت کا بہت گہرا تعلق تھا ۔اسکاٹ لینڈ کی خدمات کو آپ ہمیشہ سراہتے کہ آپ وہاں اہلسنت کی بہت عمدہ نمائندگی کر رہے ہیں۔
علامہ فضل قیوم سبحانی نے مختصر بیان کیا پھر مفتی برطانیہ علامہ مفتی فضل احمد قادری نے اپنے خطاب کے دوران پچاس سالہ رفاقت کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ حضرت مفکرملت میں کیسی عظیم قائدانہ صلاحیتیں تھیں اور ان کو معاملہ فہمی کی خداداد صلاحیت حاصل تھی۔ سلمان رشدی کے معاملے میں آپ نے کیسے بھرپور آواز بلند فرمائی۔ برطانیہ میں میلاد النبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس کے بانی مفکرملت ہیں ۔ پہلی ختم نبوت کانفرنس کروانے کا کریڈٹ بھی آپ کوحاصل ہے۔ یوکے اور یورپ میں معرکۃ الآراء مسئلہ رؤیت ہلال کا ہے جس پر آپ نے عظیم بورڈ قائم کیا جس کی کاوشوں سے چاند کی درست رؤیت کا شرعی اعلان کیا جاتا ہے اور اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔
آخر میں ترکی اور عرب امارات میں کام کرنے والی عظیم علمی اور عملی شخصیت علامہ افتخار الحسن رضوی نے خطاب کیا۔ انہوں نے حضرت مفکرملت کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے علماء و مشائخ کی توجہ برطانیہ میںدرپیش مسائل کی طرف کروائی اور دردمندانہ انداز میں اپیل کی کہ آپ پاکستان اور انڈیا کی مذہبی اور سیاسی جنگ وہیں رہنے دیں یہاں یوکے اور یورپ میں آپ اپنی نسل کی حفاظت کریں ان کی دینی تعلیم و تربیت کااہتمام کریں اور اپنے ملنے ملانے والے غیرمسلموں کواسلام کے قریب لانے کیلئے عملاً کردار ادا کریں۔
تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض علامہ مفتی قاضی محمد سعیدالرحمٰن قادری نے بڑے احسن طریقے سے ادا کیئے۔ جن علماء نے عرس میں شرکت کی اور انہیں بیان کیلئے موقع نہ دے سکے ان سے معذرت چاہی۔
اسٹیج کی زینت بننے والے علماء اور مشائخ میں مفسرقرآن علامہ قاضی محمد عبداللطیف قادری، علامہ ڈاکٹر منیر احمد ازہری، سید دانش بلال شاہ ابن سید بلال شاہ (اجمیر شریف)، سید محمد یوسف شاہ، علامہ قاری عبدالرؤف راچڈیل، قاری علی محمد شرقپوری، علامہ محمد بشیر خان نقشبندی، علامہ حافظ نثار احمد نقشبندی، خلیفہ ظاہر مظہر صدیقی، علامہ محمد شاہجہان مدنی، علامہ محمد طاہر بغدادی، علامہ حافظ ماجد حسین، علامہ سمندر خان، علامہ قاضی نویدالرحمٰن، علامہ محمد بابر بیگ چشتی گولڑوی، خلیفہ محمد ہارون دتہ، صاحبزادہ فضل عظیم، علامہ عبد المصطفیٰ نوری، علامہ عاصم ساجد، قاری ارشد محمود، حافظ نثار احمد، صوفی محمد حسین طارق ، حاجی محمد عارف قادری آخر میں علامہ احمد وقار بیگ قادری نے عرس کی تقریب میں تشریف لانے والے تمام علماء و مشائخ، قراء، ثناخوانان مصطفیٰ اور عوامِ اہلسنت کا شکریہ ادا کیا۔
صلوۃ و سلام کے بعد مفتی اہلسنت علامہ مفتی فضل احمد قادری نے بڑے درد دل کے ساتھ امت مسلمہ کیلئے بالعموم اور پاکستان کیلئے بالخصوص اور غزہ کے مسلمانوں کیلئے اور پھر مفکر ملت کے بلندی درجات کیلئے خصوصی دعا کرائی۔


