جہلم میں عدالت نے منشیات فروش کو جرم ثابت ہونے پر 20 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
تفصیلات کے مطابق منشیات کے مقدمہ نمبر 429/24 بجرم CNSA 9(1)3e تھانہ چوٹالہ میں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم محمد ساجد کو 20 سال قید با مشقت اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے جرم ثابت ہونے پر یہ فیصلہ سنایا۔
محمد ساجد کو سال 2024 میں منشیات فروشی کے سنگین جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جہلم پولیس نے نہ صرف مجرم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا بلکہ ٹھوس شواہد اور مؤثر تفتیش کے ساتھ مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ کی مؤثر پیروی کے نتیجے میں معزز عدالت نے مجرم کو قرار واقعی سزا سنائی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جہلم طارق عزیز سندھو نے کہا کہ "منشیات فروش معاشرے کا ناسور ہیں جن کے خلاف جہلم پولیس کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کیا جائے گا۔
ڈی پی او جہلم نے مقدمے کی کامیاب پیروی پر انویسٹی گیشن اور لیگل ٹیمز کو شاباش دی اور انہیں تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی محنت اور عزم کے نتیجے میں معاشرے کو منشیات جیسی لعنت سے پاک کرنے کی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔


