Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: 10 سالہ سارہ شریف کا خون رنگ لے آیا، برطانیہ میں بچی کے نام سے تحفظ اطفال قانون لانے کی تیاری
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

10 سالہ سارہ شریف کا خون رنگ لے آیا، برطانیہ میں بچی کے نام سے تحفظ اطفال قانون لانے کی تیاری

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
2 جولائی, 2025
شیئر کریں
17 اکتوبر، 2024 کو سرے پولیس کی فراہم کردہ سارہ کی تصویر (اے ایف پی/سرے پولیس)
شیئر کریں

برطانیہ میں سگے باپ اور سوتیلی ماں کے ہاتھوں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ نے برطانوی پارلیمنٹ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سارہ قتل کیس نے برطانوی پارلیمنٹ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب وہاں سارہ لاز کے نام سے ایک ایسے بل پر بحث کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں بچوں کے تحفظ کے لیے قانون بننے جا رہا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستانی نژاد لارڈ محمد اشرف نے ’’سارہ لاز‘‘ کے نام سے ایک بل پیش کیا ہے، جس پر پارلیمنٹ میں بحث جاری ہے۔

اگر برطانوی پارلیمنٹ یہ بل منظور کر لیتی ہے تو پھر یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا جو برطانیہ میں سارہ جیسے گھریلو تشدد اور جنسی ہراسانی کا شکار بچوں کی حفاظت کے لیے معاون ثابت ہوگا۔

لارڈ محمد اشرف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اندر سارہ لاز کے نام سے ایک بل پیش کیا گیا ہے پاس ہونے کے لیے جس کا مقصد بچوں کی حفاظت ہے۔ یہ سارہ لاز کیا ہے اور یہ سارہ کون ہے جس کے نام پر یہ قانون بنایا جا رہا ہے۔

سارہ کا تعارف

پاکستان سے جہلم کے علاقے کڑی جنجیل سے تعلق رکھنے والے عرفان شریف کی شادی ایک یورپین خاتون سے ہوئی، جس سے ان کی بیٹی سارہ پیدا ہوئی۔ بعد ازاں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہوگئی، جس کے بعد عرفان شریف نے بینش بتول نامی پاکستانی خاتون سے شادی کی تھی۔ سارہ کے قتل کے وقت اس معصوم کی عمر صرف 10 سال تھی۔

سارہ قتل کیس کیا ہے اور اس میں کب کیا ہوا؟

سارہ کی کہانی بڑی دردناک ہے۔ 2 سال قبل اگست 2023 میں 10 سالہ معصوم بچی سارہ کے قتل کا کیس سامنے آیا، جس نے برطانیہ سمیت پوری دنیا کو ہلا دیا۔ اس قتل کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ بچی کو اس کے والد عرفان شریف اور سوتیلی والدہ بینش بتول نے قتل کیا تھا اور قتل سے قبل بچی کو دو سال تک غیر انسانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔

قتل کے بعد یہ خاندان قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے پانچ بچوں سمیت فرار ہوکر پاکستان آ گیا۔ تاہم ملزمان کو انٹرپول کے ذریعہ پاکستان واپس لایا گیا اور اس میں پنجاب پولیس نے اہم کردار ادا کیا۔ لندن ایئرپورٹ پہنچنے پر دونوں ملزمان (سارہ کے والد اور سوتیلی والدہ) کو گرفتار کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی پولیس نے مقتول بچی کے چچا فیصل ملک کو بھی قتل کے جرم میں معاونت کرنے پر گرفتار کر لیا۔

سارہ قتل کیس کا یہ مقدمہ لندن کی کرمنل کورٹ میں چلا اور پراسیکیوشن نے جب عدالت میں شواہد پیش کیے تو عدالت میں ہر شخص بچی پر ہونے والے مظالم کا سن کر لرز گیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق 10 سالہ بچی کو قتل سے قبل دو سال تک مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جسم پر کاٹنے، استری سے جلانے سمیت دیگر بھیانک تشدد کے نشانات پائے گئے۔

عدالت نے سارہ قتل کیس میں اس کے والدین کو مجرم قرار دیتے ہوئے مرکزی مجرم والد عرفان شریف کو 40 سال قید کی سزا سنائی۔ سزا پوری ہونے پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ وہ باہر آ سکتا ہے یا نہیں۔ اسکے ساتھ ہی عدالت نے بچی کی سوتیلی ماں بینش بتول کو 33 اور مقتول بچی کے چچا فیصل ملک کو 16 سال قید کی سزا سنائی۔

سارہ اب واپس تو نہیں آ سکتی۔ لیکن اس کے نام سے بچوں کے تحفظ کے لیے بننے والے اس قانون کو اگر برطانوی پارلیمنٹ منظور کر لیتی ہے تو پھر اس قانون کے تحت کسی اور سارہ کو اس طرح کے انجام کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

برطانیہ میں مقیم کمیونٹی بھی اس بل کو سپورٹ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس طرح سے سخت قوانین بننے چاہئیں۔ اس سے جہاں بچوں کی حفاظت ہو سکے گی، اس کے ساتھ ہی کمیونٹی میں بھی شعور پیدا ہوگا۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
30°C
Jhelum
clear sky
30° _ 30°
27%
2 km/h
جمعرات
30 °C
جمعہ
32 °C
ہفتہ
32 °C
اتوار
33 °C
پیر
34 °C

تازہ ترین

پنڈدادنخان میں خاتون کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش اور تشدد کرنے والا ملزم گرفتار
22 اکتوبر, 2026
ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن
22 اکتوبر, 2026
پنڈدادنخان: اوورلوڈنگ اور خطرناک ڈرائیونگ پر ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور گرفتار، مقدمہ درج
22 اکتوبر, 2026
انسدادِ اسموگ آگاہی مہم؛ اسسٹنٹ کمشنر جہلم کی زیر نگرانی نمبرداران کنونشن کا انعقاد
22 اکتوبر, 2026
جہلم پولیس کی کارروائی، چوری ہونے والے 2 لاکھ روپے برآمد کرکے خاتون کے حوالے کر دیے
22 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

جہلم میں مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا

9 فروری, 2024

میرے دروازے جہلم کی عوام کے لئے ہر وقت کھلے ہیں، ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ

20 مارچ, 2024

جہلم پولیس کے ضلع بھر میں سرچ آپریشنز، 400 افراد اور 156 گھروں کی چیکنگ، ایک ملزم گرفتار

14 مارچ, 2026

جہلم میں افغان شہری کو پناہ دینے والا ایک اور ملزم گرفتار

11 نومبر, 2025

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں