Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: نویں جماعت کے نتائج؛ ناکامی یا منصوبہ بندی؟
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

نویں جماعت کے نتائج؛ ناکامی یا منصوبہ بندی؟

یاسر فہمید
یاسر فہمید
24 اگست, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

پنجاب میں حالیہ نویں جماعت کے نتائج نے طلباء، والدین اور اساتذہ سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ غیر معمولی حد تک کم کامیابی کی شرح نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا یہ ناکامی محض طلبہ کی محنت کی کمی ہے، اساتذہ کی نا اہلی یا پھر یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت ہوا ہے؟

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں پنجاب کا تعلیمی نظام تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ کبھی سمارٹ سلیبس، کبھی آن لائن پیپرز، کبھی امتحانی طریقہ کار میں اچانک تبدیلی بھی یہ سب ایسے اقدامات ہیں جن کا بوجھ براہِ راست طلباء پر ڈالا گیا۔ اساتذہ کو تربیت دیے بغیر نئی پالیسیاں نافذ کی گئیں، شہروں اور دیہات کے تعلیمی معیار میں پہلے ہی واضح فرق موجود تھا اور اب نتائج نے یہ فرق مزید نمایاں کر دیا ہے۔

گزشتہ دس برسوں پر نظر ڈالیں تو پنجاب کی تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل کے بجائے بار بار کے تجربات نظر آتے ہیں۔ کبھی "ایجوکیشن ریسکیو پالیسی” کے نام پر بڑے دعوے کیے گئے، کبھی سمارٹ سلیبس اور ڈیجیٹل لائبریری کے منصوبے متعارف ہوئے، کبھی رٹا ختم کرنے کے نعرے لگے مگر عملی اقدامات صفر رہے۔

دوسری طرف بجٹ کا حال یہ ہے کہ تعلیم کے لیے مختص رقم کا بڑا حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات میں کھپ جاتا ہے جبکہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات—پینے کا صاف پانی، واش رومز اور فرنیچر—ابھی تک ایک خواب ہیں۔ حیرت انگیز طور پر تعلیمی بجٹ میں ہر سال اضافے کے دعوے کیے گئے مگر عملی طور پر تعلیمی معیار مسلسل زوال کا شکار ہے۔

کسی ریاست کے حکمرانوں کی کسی بھی شعبے میں دلچسپی و سنجیدگی اکا اندازہ اس کی پالیسیوں اور بجٹ کے تناسب سے لگایا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کو جتنا سنجیدہ لیا جاتا ہے اس کا اندازہ تقریباً ہر پاکستانی کو ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔

پنجاب میں تعلیمی بجٹ مجموعی صوبائی بجٹ کا اوسطاً 18 سے 20 فیصد بتایا جاتا ہے، مگر اس کا تقریباً 80 فیصد حصہ صرف تنخواہوں اور انتظامی اخراجات میں ختم ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں اور اسکولوں کی سہولیات پر نہ ہونے کے برابر خرچ کیا جاتا ہے۔ حالیہ نویں جماعت کے نتائج میں کامیابی کی شرح صرف 40 سے 45 فیصد رہی، جو پچھلے کئی برسوں کی کم ترین سطح ہے۔

دوسری طرف عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں آج بھی بچوں کی تقریباً 23 فیصد آبادی اسکولوں سے باہر ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسئلہ طلباء کی محنت یا صلاحیت کا نہیں بلکہ پالیسیوں کی ناکامی اور حکومتی بے حسی کا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے کمزور نتائج کے بعد ایک نئی بحث زور پکڑ رہی ہے: سرکاری اسکولز کی "کارکردگی” اتنی خراب ہے کہ اب ان کا واحد حل آؤٹ سورسنگ ہے۔ گویا یہ نتائج ایک جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اگر اسکول نجی این جی اوز یا اداروں کے حوالے کر دیے گئے تو بظاہر تو "بہتری” دکھائی جائے گی لیکن اس کا اصل مطلب ہوگا تعلیم کا کاروبار۔ اساتذہ کی نوکریاں غیر محفوظ ہو جائیں گی، والدین پر مزید مالی بوجھ پڑے گا اور تعلیم عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جائے گی۔

یہ طرزِ حکمرانی نہ صرف طلبہ کے مستقبل سے کھیل ہے بلکہ معاشرے کو مزید طبقاتی تقسیم کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ تعلیم ایک بنیادی حق ہے، اسے منافع بخش منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر حکومت واقعی اصلاح چاہتی ہے تو سب سے پہلے سرکاری اسکولز میں سہولیات بہتر کرے، اساتذہ کی تربیت پر توجہ دے ، ایک جیسا اور جدید دنیا سے ہم آہنگ نصاب رائج کرے اور امتحانی نظام کو شفاف بنائے۔

بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے بجائے تعلیم کو مضبوط بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ وگرنہ یہ نتائج صرف آج کی خبر نہیں رہیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے اندھیرا ثابت ہوں گے۔

تعلیم کو تجارت مت بنائیں، یہ قوم کی بقا کا واحد سہارا ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
23°C
Jhelum
clear sky
23° _ 23°
44%
1 km/h
بدھ
23 °C
جمعرات
31 °C
جمعہ
33 °C
ہفتہ
33 °C
اتوار
34 °C

تازہ ترین

جہلم: جیولر قتل کیس میں اہم پیش رفت، ملزم کی سی سی ڈی مقابلے میں ہلاکت کے بعد فریقین نے صلح کرلی
21 اکتوبر, 2026
جہلم میں روہتاس روڈ پر ٹریکٹر ٹرالی اور موٹر سائیکل میں تصادم، 18 سالہ نوجوان جاں بحق
21 اکتوبر, 2026
جہلم میں جیولر کو قتل کرنے والا ملزم سی سی ڈی مقابلے میں ہلاک
21 اکتوبر, 2026
دینہ میں کار اور ایوری وین کے درمیان تصادم، خاتون اور دو بچے شدید زخمی
21 اکتوبر, 2026
ای پاسپورٹ بنوانے والوں کے لیے اہم خبر، اجرا کی تاریخ تبدیل
20 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

سوہاوہ میں 7 سالہ بچی سے فحش حرکات کرنے والا درندہ صفت ملزم گرفتار

26 مارچ, 2024

’ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینہ کی‘، گلزار جنہوں نے ’ہمیشہ زندہ رہنے والا سنیما‘ تخلیق کیا

18 اگست, 2024

کیا ٹرمپ عمران کو رہائی دلوا پائیں گے؟

2 مارچ, 2025

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت فری میڈیکل کیمپ ، سینکڑوں مریضوں کا مفت چیک اپ

12 مئی, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں