جہلم: ضلع بھر میں بے نام اور گمنام فیکٹریوں کی آئس کریم کا کاروبار زور پکڑتا جا رہا ہے۔ نمبر پلیٹوں کے بغیر موٹر سائیکلوں پر سوار غیر مقامی افراد دن بھر دیہاتی علاقوں کے محلوں، گلی کوچوں میں بغیر برانڈ کے کٹ رکھ کر غیر معیاری آئس کریم فروخت کرتے نظر آرہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار شہر ی تنظیموں کے عمائدین نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نہ صرف مضر صحت آئسکریم فروخت کر رہے ہیں بلکہ ان کا یہ کاروبار بھی غیر قانونی ہے۔ گلی محلوں میں نجی چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں اور کارخانے برانڈڈ لیبل لگا کر غیر معیاری مضر صحت قلفیاں اور آئسکریم سر عام فروخت کر رہے ہیں۔
شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک عرصہ سے گلی کوچوں میں بے نام فیکٹریوں کے بے نام برانڈ آئسکریم اور جعلی برانڈ کے ریپر ولیبل لگا کر فروخت کرنے کا سلسلہ بند کرنے کے لئے تاحال کسی نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
مقامی ا فراد کا کہنا ہے کہ مضافاتی علاقوں میں اس وقت ناقص آئس کریم کا کاروبار عروج پر ہے اور یہ سلسلہ ا ب چھوٹے شہروں سے نکل کر چھوٹے چھوٹے دیہاتوں تک پہنچ چکا ہے جبکہ سکولوں کے سامنے بھی یہ آئس کریم فروخت کی جارہی ہے جس کے استعمال کے بعد بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص و مضر صحت آئسکریم فروخت کرنے والے افراد کے خلاف سخت کاروائیاں کی جائیں تاکہ مصوم بچوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔


